اہم خبریں

میکرو اکنامک استحکام کی بحالی کے انڈیکیٹرز اقتصادی سروے میں شامل ہیں،وزیر خزانہ

اسلام آباد (  اے بی این نیوز    )اقتصادی سروے 2022-2023 پیش کرتے ہو ئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بتا یا کہ حکومت نے اقتصادی حالت کو بہتر بنانے کیلئے اپنا کردار اد کیا ہے،سینیٹر اسحاق ڈار وزارت خزانہ میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے ہمراہ قومی اقتصادی سرورے 23-2022 پیش کر رہے ہیں،انہون نے کہا کہ ہم نے حکومت سنبھالی تو ملک میں دہشتگردی تھی،ہم نے مائیکرو اکنامک بہتر بنانے کیلئے بھی اقدامات کئے ہیں،اگلے سال کیلئے پانچ اقادامات مختس کئے ہیں، پاکستان کی معیشت گزشتہ سالوں میں بہت نیچے آگئی ہے جہاں ہم نے 2017 میں معیشت چھوڑی تھی اس کو اسی جگہ پر لے کر جا نا ہے،اور معیشت کو ترقی دینا ہے، ہم پاکستان کو واپس ترقی پر لےکر جائیں گے، ہم ون اکنامکے مائیکرو پر گامزن ہیں،مضبوط معیشت کی وجہ سے سرمایہ کرون کا اعتماد بڑھے گا، 2013 میں جب حکومت سنبھالی تو برے معاشی حالات تھےن لیگ کی حکومت نے تھری ایز پر کام شروع کیا،2023 کو فائیو ایز کا نام دیا جاسکتا ہے یہ ملکی معاشی اور مجموعی صورتحال کے حوالے سے انتہائی مشکل سال تھامائیکرو اکنامک استحکام کی بحالی کے انڈیکیٹرز بتائے گئے ہیںچند سال میں ملکی معیشت 24 ویں نمبر سے 47 ویں نمبر پر پہنچ گئی ہےپاکستان کو واپس ترقی کے راستے پر لائیں گے،ہم سب کو معاشی مضبوطی کے لئے مل کر کامم کرنا ہے،ہم ملک نہ سنبھالتے تو ملک ڈیفالٹ ہو چکا ہو تا،چند سال میں ملکی معیشت ستائیسویں نمبر سے سنتالیسویں نمبر پر پہنچ گیا،ن لیگ کی حکومت نے تھری ایز پر کام شروع کیا،میاں نواز شریف کی حکومت میں اسٹاک مارکیٹ کو 100 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی حکومت سنبھالی تو مالیاتی اسپیس شرنک ہوچکی تھی جاری کھاتوں کا خسارہ بڑھتا جارہا تھاگزشتہ حکومت چند ماہ اور رہتی تو پاکستان ڈیفالٹ ہوجاتاایک کوارٹر میں 6 اعشاریہ 4 ارب ڈالر کے ریزورز ختم کردئیے گئےمعیشت میں جو گراوٹ تھی وہ رک چکی ہےجاری کھاتوں کا خسارہ 17 اعشاریہ 4 ارب ڈالر پر پہنچ گیاہمارے دور میں گردشی قرضہ 1148 ارب روپے تھا ،چار سال میں گردشی قرضہ 2469 ارب روپے تک پہنچ گیا،موجودہ حکومت نے پانچ ایز کو فالو کیا اور روایتی ترجیحات کو بالا ئے ظاق رکھا،میکرو اکنامک استحکام کی بحالی کے انڈیکیٹرز اقتصادی سروے میں شامل ہیں،اسحاق ڈار کا کہنا تھا پچھلا مالی سال بہت مشکل سال تھا، اقتصادی سروے کی اشاعت وزارت خزانہ کی ذمہ داری ہوتی ہے، 2017میں پاکستان کی معیشت دنیا کی 24ویں معیشت بن چکی تھی اور 2022میں پاکستان کی معیشت بدقسمتی سے دنیا کی 47ویں معیشت بن گئی۔ ہم جو ایریاز کور کریں گے ان میں زراعت، کیپٹل مارکیٹ، صحت، تعلیم اور مواصلات سب شامل ہیں، ہم نے فائیو ایز (ایکسپورٹ، ایکوئٹی، انرجی، امپاورمنٹ اور انوائرمنٹ) کو ترجیح دی ہے، حکومت کی ترجیح ہے کہ میکرو اکنامک ترقی کے ساتھ ساتھ چلیں۔ تھری ایز کے بعد اب فائیو ایز پالیسی پر آئندہ کا روڈ میپ بنایا ہے، میکرو اکنامک استحکام کی بحالی کے انڈیکیٹرز اقتصادی سروے میں شامل ہیں، میکرو اکنامک استحکام کو بحال کرنا حکومت کا مقصد ہے۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا جہاں 2017 میں ملک پہنچ چکا تھا وہیں دوبارہ لے جانا چاہتے ہیں، حکومت مجموعی گروتھ کے راستے پر چلنا چاہتی ہے،ہمارے دور میں گردشی قرضہ 1148 ارب تھا،نواز شریف کے دور میں اسٹاک ایکسچینج 100 فیصد آگے جا چکی تھی،اگلے سال کیلئے پانچ اہداف مقرر کئے گئے ہیں، میں جب آیا تھا تو مین نے کہا تھ ا کہ ڈالر نیچے آنا چاہیئے،جرور آنا چاہیئے تھا، چار سال میں قرضہ پہنچ گیا،آنے والے چیلنجز پر قابو پانے سے عوام کے حلات اچھے ہو جائیں گے، ملک 2017 میں مثبت سمت میں جا رہا تھا مگر چار سالہ اقتدار نے بری حالت کر دی، 2017 میں پاکستان کی معیشت دنیا کی 24 ویں معیشت بن چکی تھی، 2022 میں پاکستان کی معیشت بدقسمتی دنیا کی 47 ویں معیشت بنی۔انہوں نے کہا کہ ہم جو ایریاز کور کریں گے ان میں زراعت بھی شامل ہے، کیپٹل مارکیٹ، صحت، تعلیم ، مواصلات سب کو کور کیا گیا ہے، ہم نے فائیو ایز ایکسپورٹس، انرجی امپاورمنٹ انوائرمنٹ کو ترجیح دی ہے، حکومت کی ترجیح ہے کہ میکرو اکنامک ترقی کے ساتھ ساتھ چلیں، ہم نے ملک میں معاشی استحکام لانا ہے۔اسحاق ڈار نے یہ بھی کہا کہ ہمارے دور میں اسٹاک مارکیٹ کی کیپٹلائزشن 100 ارب ڈالر تھی، ملک کو جلد معاشی ترقی کی راہ پر ڈالنا چاہتے ہیں، معیشت میں جو گراوٹ ہورہی تھی وہ رک چکی ہے۔موجودہ حکومت نے جب ذمہ داری سمبھالی تو شدید قسم کے چینلجز آ چکے تھے،حکومت سمبھالی تو کرنٹ اکانٹ خسارہ بڑھتا جا رہا تھا،حکومت سمبھالنے سے پہلے ایک کوارٹر میں 6 ہزار 4 سو ارب روپے کی کمی ہوئی تھی، 2 ماہ پہلے ڈیفالٹ کی باتیں ہو رہی تھی، معیشت کی گراوٹ اب رک چکی ہے ترقی کا سفر شروع ہو گیا ہے، 2017 میں مالیاتی خسارہ 5.8 چھوڑا تھا جو بڑھ کر 7.9 ہو گیا،تحریک انصاف کے دور میں قرض میں 97 فیصد اضافہ ہوا، وفاقی وزیر خزا نہ کا کہنا تھا تھری ایز کے بعد اب فائیو ایز پالیسی پر آئندہ کا روڈ میپ بنایا ہے، میکرو اکنامک استحکام کی بحالی کے انڈیکیٹرز اقتصادی سروے میں شامل ہیں، میکرو اکنامک استحکام کو بحال کرنا حکومت کا مقصد ہے۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا جہاں 2017 میں ملک پہنچ چکا تھا وہیں دوبارہ لے جانا چاہتے ہیں، حکومت مجموعی گروتھ کے راستے پر چلنا چاہتی ہے۔معیشت میں جو گراوٹ تھی وہ رک چکی ہے،نئی حکو مت کیلئے اتنے ریفارمز کرنا کو آسان کام نہیں،ہم نے گرتے ہو ئی معیشت کو سنبھالا ہے،تحریک انصاف نے آئی ایم ایف سے کیئے معاعدے کی خلاف ورزیاں کی، رواں مالی سال میں گلوبل جی ڈی پی گروتھ میں کمی ہوئی ہےدنیا بھر کی ٹریڈ گروتھ میں بھی بڑی کمی واقع ہوئی، پاکستان میں آنے والے سیلاب سے 16 ارب ڈالر کا نقصان ہوا،ہم نے معاشی اصلاحات کیلئے بہت بڑی سیاسی قربانی دی ہے،تحریک انصاف نے آئی ایم ایف سے کیئے معاعدے کی خلاف ورزیاں کی، رواں مالی سال میں گلوبل جی ڈی پی گروتھ میں کمی ہوئی ہے،دنیا بھر کی ٹریڈ گروتھ میں بھی بڑی کمی واقع ہوئی، ہم ملک کو مشکلات سے نکالنے کی کوشش کرہے ہیں،ہمارا سب سے بڑا مسئلہ بیرونی اکاونٹس ہیں،وزیر خزانہ نے کہا کہ اقتصادی سروے کا موضوع برآمدات، ایکویٹی، ایمپاورمنٹ، ماحولیات اور توانائی ہے۔انہوں نے بتایا اقتصادی سروے 17 ابواب پر مشتمل ہے، جس کا مقصد گزشتہ چند برسوں میں پاکستان کی معیشت کی زبوں حالی کو واپس ترقی کی جانب لے جانا ہے۔وزیر نے کہا کہ پاکستان نے ختم مالی سال کے لیے مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 0.29 فیصد حاصل کی، جس سے 5 فیصد کا ہدف بڑے مارجن سے حاصل نہیں ہوا۔یہ معمولی نمو زراعت، صنعت اور خدمات کے شعبوں میں بالترتیب 1.55 فیصد، -2.94 فیصد، اور 0.86 فیصد رہی۔وزیر خزانہ نے کہا کہ اگر یہ حکومت ذمہ داری نہ سنبھالتی تو نہ جانے ملک کہاں کھڑا ہوا تھا کیوں کہ ہماری حکومت آنے سے قبل آخری تیسری سہ ماہی میں غیر ملکی زرِ مبادلہ میں 6 ہزار 400 ارب ڈالر کی کمی ہوئی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ معیشت میں جو گراوٹ ہورہی تھی وہ رک چکی ہے اب ہماری کوششیں اسے ترقی کے راستے پر لے جانا ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ سال 2018 میں مالی خسارہ 5.8 فیصد تھا جو گزشتہ سال جب نئی حکومت نے ذمہ داری سنبھالی تو 7.9 فیصد پر پہنچ گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ تجارتی خسارہ 2018 میں 30.9 ارب ڈالر سے گزشتہ سال 39.1 ارب ڈالر جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 4.7 فیصد سے 17.5 ملین ڈالر تک جا پہنچا، غیر ملکی سرمایہ کاری 2.8 ارب ڈالر سے سکڑ کر 1.9 ارب ڈالر رہ گئی اور پبلک پالیسی ریٹ 6.5 فیصد سے پونے 14 فیصد ملا۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ توانائی کے شعبے کا گردشی قرض ہر سال 129 ارب روپے کے حساب سے بڑھ رہا تھا جو 2018 میں 1148 ارب چار سال کی قلیل مدت میں 2 ہزار 467 ارب تک جا پہنچا یعنی اس میں 330 سالانہ اضافہ ہوا۔انہوں نے بتایا کہ سال 2018 میں سرکاری قرض جی ڈی پی کے 63.7 فیصد تھا وہ 73.9 فیصد تک جا پہنچا جو بہت بڑا اضافہ ہے۔اسحٰق ڈار نے کہا کہ اس وقت ریونیو کلیکشن کا بڑا حصہ سود کی ادائیگی میں خرچ ہورہا ہے جبکہ اسی ملک کی 2017 میں سود کی ادائیگی 18 سو ارب روپے سے کم تھی جو آج 7 ہزار ارب تک پہنچ چکی ہے۔انہوں نے اس کی وجہ بد انتظامی، قرضوں کے انبار لگانے، پالیسی ریٹ میں اضافے کو قرار دیا جو غیر مستحکم ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ اس سب کچھ کے بعد تابوت میں آخری کیل جو ثابت ہوئی اس نے پاکستان کے بھروسے اور ساکھ کو متزلزل کر کے رکھ دیا، اگر آپ نے کوئی خود مختار وعدہ کیا ہے تو وہ کسی سیاسی جماعت کا نہیں ہوتا بلکہ پاکستان کا ہوتا ہے اور ہمیں اسی طرح پورا کرنا چاہیے لیکن جب دیکھا کہ ہم حکومت سے نکلنے والے ہیں تو وعدے پورے نہیں کیے گئے بلکہ انہیں ریورس کردیا جس سے عالمی مالیاتی اداروں میں پاکستان کی ساکھ متاثر ہوئی۔وزیر خزانہ نے کہا کہ اس بدقسمتی میں کچھ عالمی منفی اشاروں نے بھی کردار ادا کیا اس میں عالمی جی ڈی پی شرح نمو میں 50 فیصد کمی آگئی ہے، عالمی افراطِ زر میں 85 فیصد کا اضافہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ عالمی تجارت کی شرح نمو میں 5 گنا کمی واقع ہوئی اور گلوبل ولیج ہونے کی وجہ سے پاکستان بھی اس سے متاثر ہوا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ اس کے علاوہ پاکستان کو سیلاب کی قدرتی آفت کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں معاشی اور املاک کا تقریباً 30 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔

متعلقہ خبریں