اسلام آباد(اے بی این نیوز)وزیراعظم شہبازشریف نے ترکیہ خبررساں ادارے اناطولیہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ نو مئی کو چیئرمین پی ٹی آئی سنگین بدعنوانی کے الزامات پر گرفتارہوئے،چیئرمین پی ٹی آئی کو عدالت میں ثابت کرنا تھا کہ الزامات غلط ہیں،چیئرمین پی ٹی آئی کافی عرصے سے اپنے لوگوں کو ذہنی طورپر تیار کررہے تھے،ریاست کے خلاف سنگین اقدامات کی منصوبہ بندی کے شواہد موجود ہیں۔ مئی 9 کو شرپسندوں نے ریاست کی رٹ کو چیلنج کیا۔ شرپسند عناصراور قومی تشخص کو تباہ کرنے والوں کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنے لوگوں سے کہا کہ گرفتاری پر ردعمل دیں،چیئرمین پی ٹی آئی نے ٹھگوں کے گروہ کو اکسایاجس کے ثبوت موجود ہیں،پی ٹی آئی رہنما اپنے لوگوں کو جلائوگھیرائو کے احکامات دے رہے تھے،ٹھگوں کے گروہ نے شہدا کی یادگاروں اور قبروں پر حملہ کیا، تنصیبات پر حملہ کرنیوالوں کیخلاف قانون اپنا راستہ لے رہاہے۔جب عہدہ سنبھالا پاکستان ڈیفالٹ کے دہانے پر تھا، سابق حکومت نے آئی ایم ایف معاہدے کی خلاف ورزی کی۔حکومت سنبھالی تو معیشت ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی۔پاکستان ترکیہ باہمی تجارتی حجم گہرے برادرانہ تعلقات کا آئینہ دار ہونا چاہئے،پاکستان اور ترکیہ کے قربت پر مبنی تعلقات اعتماد کے رشتوں پر استوار ہیں،ترکیہ کیساتھ توانائی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کا فروغ اور تجارتی حجم بڑھانا چاہتے ہیں،وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالتے ہی کئی اہم چیلنجز درپیش رہے،ہمیں بہترین انداز میں مسائل سے نمٹنے میں کامیاب رہے، ترکیہ سمیت دیگر ممالک نے بھرپور تعاون کیا،اپنے بھائی رجب طیب اردگان کیساتھ مل کر کام کریں گے،سیلاب سے لاکھوں لوگ متاثر ہوئے اور فصلیں بہہ گئیں،پاکستان کی معیشت کیلئے اچھی خبریں آرہی ہیں ،عمران خان پر کرپشن کے الزامات ہیںسیلاب پر ہمیں دوست ممالک کا تعاون حاصل ہے،گزشتہ کئی سال ہمیں تباہ کن سیلاب کا سامنا کرنا پڑا،گزشتہ سال ہمیں اربوںڈالر کی گندم درآمد کرنا پڑی تھی۔















