اسلام آباد(سے بی این نیوز) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے ساتھ اپنے انٹرویوز میں کھلے عام اور جان بوجھ کر غلط معلومات فراہم کر رہے ہیں۔شہباز شریف نے ٹوئٹ کیا کہ 9 مئی کے بعد کے واقعات کو ‘انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں’ اور ‘سیاسی احتجاج کے حق کو سلب کرنے’ کے طور پر ان کی وضاحت نہ صرف گمراہ کن ہے اس کا مقصد ملک سے باہر رائے سازوں کو جوڑ توڑ اور ان پر دباوٴ ڈالنا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں سیاق و سباق کو درست کرتا ہوں ان کی پارٹی نے 9 مئی کو جو کیا وہ ریاست پاکستان پر ایک ڈھٹائی سے حملہ تھا، جس میں مذموم ارادے اور مذموم مقاصد تھے، دنیا کا کوئی بھی ملک اپنی سالمیت کو تباہ کرنے کی ایسی کوشش کو برداشت نہیں کرے گا۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ میں سب کو یقین دلاتا ہوں کہ مجرموں سے قانون کے تحت نمٹا جائے گا، میں اس بات کو یقینی بناوٴں گا کہ حقوق کی خلاف ورزی نہ ہو۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ ہر معاملے میں قانون کے تحت مناسب طریقے سے نمٹایا جائے گا، پاکستان انسانی حقوق سے متعلق اپنی تمام آئینی اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کا مکمل احترام اور پابند ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کا ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں بارے بیان گمراہ کن ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی بین الاقوامی میڈیا کے ساتھ اپنے انٹرویوز میں کھلے عام غلط بیانی کررہے ہیں، 9مئی کے واقعات کے بعد ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے ان کا بیان گمراہ کن ہے، اس کا مقصد پاکستان پر دباؤ ڈالنا ہے۔شہباز شریف نے کہا ان کی پارٹی نے 9 مئی کو جو کیا وہ ریاست پر حملہ تھا، دنیا کا کوئی بھی ملک سالمیت کو تباہ کرنے کی ایسی کوشش کو برداشت نہیں کرے گا، مجرموں سے قانون کے تحت نمٹا جائے گا، اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہ ہو۔وزیراعظم شہباز شریف نے مزید کہا ہے کہ پاکستان انسانی حقوق سے متعلق اپنی آئینی ذمہ داریوں کا مکمل احترام کرتا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا کے ساتھ اپنے انٹرویوز میں عمران نیازی دانستہ طور پر کھلے عام مقامی اور بین الاقوامی سامعین کو بڑی مہارت سے جھوٹی باتوں اور غلط بیانی سے گمراہ کر رہے ہیں۔انکا 9 مئی کے بعد کے واقعات کو انسانی حقوق کی پامالی اور سیاسی احتجاج کو دبانے کے زاویے سے پیش کرنے کا مقصد…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) June 5, 2023















