اہم خبریں

سپریم کورٹ الیکشن نظرثانی کیس، اٹارنی جنرل ، ایڈوکیٹ جنرل پنجاب ، خیبرپختونخوا کو نوٹس جاری

اسلام آباد(نیوزڈیسک)پنجاب میں الیکشن کے نظرثانی کیس ، چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی لارجر بینچ سماعت کررہا ہے ۔ چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتےہوئے کہا کہ ہم تمام فریقین کو سنیں گے الیکشن کمیشن کو دلائل کیلئے مزید کتنا وقت درکار ہے ۔ الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ ابھی تین سے چار گھنٹے کا وقت درکار ہے ۔چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل ، ایڈوکیٹ جنرل پنجاب ، خیبرپختونخوا کو نوٹس جاری کردیئے۔اس وقت ملک کی نصف آبادی بغیر نمائندگی کے ہے ۔ ترقیاتی کام رکے ہوئے ہیں۔ عوام مسائل کا شکار ہیں۔ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کردیا۔ سماعت 23 مئی تک ملتوی کردی۔
سپریم کورٹ کے 14 مئی کو پنجاب میں انتخابات کے حکم کے 4 اپریل کے فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن کی نظرثانی کی درخواست پر سماعت کا آغاز ہوگیا۔14 مئی گزرگیا تاہم سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق پنجاب میں عام انتخابات نہ ہوسکے۔سپریم کورٹ کا پنجاب میں انتخابات 14 مئی کو کرانےکا حکم، انتخابات ملتوی کرنےکا الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدمچیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں3 رکنی خصوصی بینچ کیس کی سماعت کر رہا ہے، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر 3 رکنی بینچ کا حصہ ہیں۔الیکشن کمیشن نے 14مئی کو انتخابات کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دائر کر رکھی ہے، الیکشن کمیشن کا موقف ہےکہ انتخابات کی تاریخ دینےکا اختیار سپریم کورٹ کو حاصل نہیں۔سماعت کا آغاز ہوا تو چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ فریقین کو نوٹس جاری کر دیتے ہیں، اس کیس میں صوبوں کو نوٹس جاری کریں گے۔سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے ایڈوو کیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کردیئے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کی نظرثانی درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل دیں، آپ دلائل میں کتنا وقت لیں گے؟وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ مجھے دو سے 3 دن درکار ہوں گے۔اس دوران پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر روسٹرم پر آگئے، ان کا کہنا تھا کہ آئین کا قتل کردیا گیا ہے، ملکی آبادی کا 10 کروڑ حصہ نمائندگی سے محروم ہے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ملک میں انتخابات کا وقت ابھی ہے، پریشان کن ہےکہ جس طرح سیاسی طاقت استعمال ہو رہی ہے، باہر دیکھیں کیا ماحول ہے، دو اہم چیزیں فنڈز اور سکیورٹی کی تھیں، آج آپ نے درخواست میں سپریم کورٹ کے دائرہ اختیارکا پنڈورا باکس کھولا ہے، یہ آپ کے مرکزی کیس میں موقف نہیں تھا، سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار پر کسی اور کو بات کرنا چاہیے۔چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کو ان معاملات پر عدالت آنا چاہیے تھا لیکن وہ نہیں آئے، نظرثانی کا آپشن آپ کے پاس تھا جو آپ نے استعمال کیا، ملکی اداروں اور اثاثوں کو جلایا جا رہا ہے، وفاقی حکومت بے بس نظرآتی ہے، باہر دیکھیں انسٹالیشنز کو آگ لگائی جا رہی ہے، اللہ تعالی مشکل وقت میں صبر کی تلقین کرتا ہے، وفاقی حکومت بے بس نظرآتی ہے، چار پانچ دن سے جو ہو رہا ہے اسے بھی دیکھیں گے۔

متعلقہ خبریں