اہم خبریں

پنجاب میں الیکشن کیس کی سماعت، قانون کی عملداری کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے،چیف جسٹس عمرعطا بندیال

اسلام آباد(نیوزڈیسک)سپریم کورٹ میں پنجاب میں الیکشن کے حوالے سے چیف جسٹس عمرعطابندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی ۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے ۔ قانون کی عملداری کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے کیا عدالت عوامی مفادات سے آنکھیں چرا لے ۔ حکومت عدالتی احکامات پر عملدرآمد کی پابند ہے ۔ پاک فوج نے ملک کیلئے قربانیاں دی ہم بھی ملک کیلئے قربانی دینے کیلئے تیار ہیں۔ عدالت تحمل کا مظاہرہ کررہی ہے ہمیں کمزور نہ سمجھا جائے ۔ آپ تین چار دن سے بحث کررہےہیں ۔ آج کی گفتگو ہی دیکھ لیں کوئی قانون اورآئین کی بحالی کی بات ہی نہیں ہورہی ۔ ہم سیاست کا جواب نہیں دینگے، معاشی ، سیاسی ، سکیورٹی کیساتھ آئینی بحران بھی حل کرنا ہے ۔ حکومت اور اپوزیشن کو سنجیدہ ہونا ہوگا۔ معاملہ سیاسی جماعتوں پر چھوڑ دیں تو کیا قانون پر عملدرآمد روک دیں۔14 مئی کا فیصلہ لیکر بیٹھے نہیں رہیں گے، فیصلے پر عمل کیلئے آئین استعمال کرسکتے ہیں: دوسری جانب تحریک انصاف نے 14 مئی کو ہی الیکشن کی استدعا کردی۔ بیرسٹر علی ظفرنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کیساتھ مذاکرات کے تین ادوار ہوئے جس میں حکومت نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں دکھایا عدالت اپنے حکم پرعملدرآمد کیلئے فیصلہ نمٹا دے ۔ آئین سے باہر نہیں جایا جاسکتا، فاروق ایچ نائیک نے جو اعتراض کئے ہیں وہ غیر آئینی ہیں۔ حکومت نے 14 مئی کو ہونیوالے الیکشن پر نظرثانی کی درخواست نہیں کی۔ چیف جسٹس نے بھی ریماکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ 14 مئی کو الیکشن کے حوالے سے نظرثانی کی کوئی درخواست نہیں کی۔ کل بھی دہشتگردی سے شہادتیں ہوئیں۔ قوم کے جوانوں نے جانی کی قربانیاں پیش کیں۔ ہم بھی قربانی دینے کیلئے تیار ہیں۔ ہمیں وقت بتایا جائے کہ مذاکرات کب تک ختم ہونگے۔ وقت کو دیکھتے ہوئے سپریم کورٹ آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گی۔ غصے میں کوئی فیصلہ نہیں دیتے نہ ہی ہمیں کسی پر غصہ ہے ۔ آئینی کارروائی کو حکومت نے سنجیدہ نہیں لیا تھا۔ پہلے بھی کہا تھا کہ سیاست عدلتی کارروائی میں گھس چکی ہے ۔ جسٹس اطہر من اللہ نے اسمبلیاں بحالی کا نقطہ اٹھایا تھا۔ بڑی بڑی جنگوں میں بھی الیکشن نہیں رکے ، ترکی میں شدید زلزلے کے باوجود الیکشن ہورہے ہیں. عدالت نے اپنا ہاتھ روک رکھا ہے کہ ملک کے حالات سازگار نہیں،23 فروری کو یہ معاملہ اٹھا سملجھ جاتا تو آج معاملات کسی اور ڈگر پر ہوتے

متعلقہ خبریں