لاہور(نیوزڈیسک) سابق وزیراعظم وچیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو الیکشن سےکسی صورت بھاگنے نہیں دینگے، ان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی بھرپور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سامنا کررہی ہے۔عمران خان نے نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کے حوالے سے سپریم کورٹ کی جانب سے کیے جانے والے فیصلے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سوموٹو نوٹس لے کر ہی قاسم سوری کی رولنگ مسترد کی گئی تھی تو اس وقت تو تعریفیں کی گئی تھیں، اب سپریم کورٹ نے سوموٹو لیا ہے تو ان کو بڑی تکلیف ہورہی ہے، ہمارے لیےرات12بجےعدالتیں کھلی تھیں ہم نے تب بھی سپریم کورٹ کے فیصلے سے انکار نہیں کیا تھا۔عمران خان نے کہا کہ اس سے پہلے بھی سپریم کورٹ کے3،5رکنی بینچ نے فیصلہ دیا جسے سب لوگوں نے قبول کیا، آئین واضح کہتا ہے کہ اسمبلی تحلیل ہو تو90دن میں الیکشن کرانا ہوں گے۔ سپریم کورٹ نے14مئی کو الیکشن کی تاریخ دی ہے ہم انہیں بھاگنے نہیں دینگے، یہ لوگ آج بھی عدلیہ پردباؤ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں، ہم عوام کو تیار کررہے ہیں، پوری قوم عدلیہ اورآئین وقانون کے ساتھ کھڑی ہے۔سابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت تاخیری حربے استعمال کر رہی ہیں کہ کسی طرح 14مئی کو عبور کرلیں، ہم سپریم کورٹ کے ساتھ ہیں، 14 مئی سے آگے نہیں جائیں گے، حکومت کے پاس کوئی پرپوزل ہے تو دے دے ہم بات کرلیں گے، جون جولائی میں عام انتخابات کی تجویز دیں ہم بات کریں گے، مئی میں اسمبلیاں تحلیل کریں، نیوٹرل نگراں حکومت لائیں پھر بات ہو سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ن لیگ کا الیکشن سے بھاگنا سمجھ آرہا ہے کیوں کہ ان کی پارٹی بالکل ٹوٹ چکی ہے، پنجاب میں یہ نکلیں گے تو انہیں پتہ چلے گا لوگ ان سے نفرت کیوں کررہے ہیں، ان لوگوں کی تاریخ ہے، یہ لوگوں کو خریدتے ہیں یا بلیک میل کرتے ہیں، مریم نواز خود کہتی ہے کہ میں نے ویڈیوز بنائی ہوئی ہیں، یہ لوگ آڈیوز ریکارڈ کراتے ہیں اور پھرانہیں لیک کرتے ہیں، آڈیو ریکارڈنگ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔حکومت سے مذاکرات سے متعلق انہوں نے بتایا کہ اسد قیصر کو بات کرنے کا مینڈیٹ نہیں دیا بلکہ شاہ محمود قریشی بات کریں گے، شاہ محمود قریشی سے ابھی تک کسی نے مذاکرات کیلئے رابطہ نہیں کیا، پی ڈی ایم، پیپلزپارٹی سب نے کہا کہ اپنی حکومتیں گرائیں الیکشن کرادیں گے، ہم نے اپنی اسمبلیاں تحلیل کردیں تو اب یہ الیکشن سے بھاگ رہے ہیں۔اگر یہ کہتے ہیں کہ اکتوبرمیں الیکشن ہونگے تو اس وقت پھر کوئی بہانہ کرینگے، یہ ہمیں ٹریپ کرنا چاہتے ہیں، ہم سپریم کورٹ کے فیصلے کے ساتھ کھڑے ہیں، نگراں حکومتیں آئین کےمطابق اپنی مدت پوری کرچکی ہیں، مئی میں اسمبلیاں تحلیل کریں، نیوٹرل نگراں حکومت لائیں پھربات ہوسکتی ہے،چیئرمین پی ٹی آئی نے لندن پلان سے متعلق بتایا کہ نوازشریف کو گارنٹی دی گئی تھی کہ عمران خان اور پی ٹی آئی کو ختم کردینگے، لندن پلان میں ہمیں کمزور کرنا تھا، کیسز کرنے تھے جیلوں میں ڈالنا تھا، الیکشن کمیشن ان کے ساتھ ملا ہوا ہے، نگراں حکومتوں کو بھی یہ استعمال کررہے ہیں، ان لوگوں کی پوری کوشش ہے کسی طرح پی ٹی آئی کو کمزور کردیا جائے، پہلے یہ لوگوں کو گرفتارکرتے تھے اب باقاعدہ انہیں اغوا کیا جاتا ہے، پی ٹی آئی بھرپور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سامنا کررہی ہے۔ایک سوال کے جواب میں چیئرمین پی ٹی آئی نے بتایا کہ قمرجاوید باجوہ نے بھی ایسے جھوٹ بولے جو کبھی نہیں سنے تھے، جب ہماری حکومت گرائی گئی تو اس وقت پتہ چلا قمرباجوہ ہم سے جھوٹ بولتا رہا، مڈل ایسٹ کے ایک رہنما نے ایک سال پہلے مجھے بتایا تھا کہ قمر باجوہ تمہارے خلاف ہوگیا ہے، اس کے علاوہ آئی بی ہیڈ نے بھی مجھے ذاتی طور پر آکر بتایا کہ قمر باجوہ شہباز شریف کو لانا چاہتا ہے۔ن لیگ کی جانب سے بھی ایسےجھوٹ بولے جاتے ہیں کہ یقین نہیں آتا، لانگ مارچ میں20دن کا وقت دیا تھا اس میں بھی تاخیر کی تھی، بدنیتی کی حد دیکھیں، انہیں وقت دے رہا تھا اور یہ گھر پر چھاپے مار رہے تھے، یہ لوگ سنجیدہ ہی نہیں تھے اس لیے ہم نے لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔















