اہم خبریں

انتخابات کیس؛ تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے سینئر ٌلیڈر شپ کل سپریم کورٹ طلب

اسلام آباد(نیوزڈیسک)پنجاب میں‌الیکشن کے حوالے سے چیف جسٹس عمرعطاء بندیال کی سربراہی میں سماعت ہوئی ، سپریم کورٹ نے انتخابات کیس میں ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے سینئر رہنماؤں کو کل طلب کرلیا۔وزرات دفاع کی درخواست پر اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔چیف جسٹس نے کہا کہ معاملہ بہت لمبا ہوتا جارہا ہے، حکومت نے اپنا ایگزیکٹیو کام پارلیمان کو دیا ہے یا نہیں؟اٹارنی جنرل نے بتایا کہ قومی اسمبلی کی قرار داد کی روشنی میں فنڈز کا معاملہ پہلے قائمہ کمیٹی منظوری کیلئے بھیجا، جس نے قومی اسمبلی بھیجا جہاں سے مسترد کردیا گیا۔سپریم کورٹ کاجون 2021 ء تک آڈٹ ہوچکاہے۔ دس سال سے آڈٹ نہ کروانامحض پروپیگنڈہ ھے۔اٹارنی جنرل اپنے دلائل دینے روسٹر پرپہنچ گئے۔ جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے پاس اسمبلی میں اکثریت ہونا لازمی ہے، حکومت کوگرانٹ سے کیسے روکاجاسکتاہے،مالی معاملات میں تو اکثریت لازمی ہوتی ہے،کیاضمنی گرانٹ لینے میں کبھی حکومت کوشکست ہوئی،اٹارنی جنرل صاحب سمجھنے کی کوشش کریں معاملہ بہت سنجیدہ ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ آپ ہمارا نقطہء نظر سمجھ چکے ہیں، انتظامی امور قائمہ کمیٹی کو بھجوانے کی کوئی مثال نہیں ملتی،انتخابی اخراجات ضرورت نوعیت کے ہیں غیر اہم نہیں، چیف جسٹس عمرعطا بندیال کا کہنا ہے کہ حکومت کا گرانٹ مسترد ہونے کا خدشہ اسمبلی کے وجود کے خلاف ہے،اس معاملہ کےنتائج غیرمعمولی ہوسکتے ہیں،امید کرتے ہیں حکومت اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے گی، اگر حکومت ایسا نہیں کرتی تو پھر اس کے نتائج اچھے نہیں ہونگے۔حکومت کو عدالتی احکامات پہنچادیں۔ایساکیامنفرد خطرہ ہے جو الیکشن نہیں ہوسکتے۔حکومت اندازوں پر نہیں چل سکتی۔الیکشن کمیشن کی ابزرویشن سیکیورٹی کی عدم فراہمی ہے۔2007ء میں بےنظیربھٹو کےقتل کے باوجود الیکشن ہوئے۔آئین میں اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد وقت مقرر ہے۔عدالت نوٹس نہ لیتی تو قومی اسمبلی تحلیل ہوچکی ہوتی۔

متعلقہ خبریں