اسلام آباد(اے بی این نیوز )وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ فیصل کریم کنڈی نے ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قومی حکمت عملی وضع کرنے کے لیے آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کے انعقاد پر زور دیا ہے۔منگل کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران فیصل کنڈی نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس فوری طور پر تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی کے ساتھ بلائی جائے تاکہ انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی تیار کی جا سکے تاکہ پشاور پولیس لائنز کی مسجد پر حملے اور ماضی میں آرمی پبلک سکول جیسے دہشت گردی کے واقعات سے بچا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا امن و استحکام کا سفر کسی فرد کی وجہ سے نہیں رکنا چاہیے،تاریخ ان لوگوں کو معاف نہیں کرے گی جو امن عمل کا حصہ نہیں بنیں گے۔ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ اس وقت کی پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی حکومت نے 2008 میں تمام سٹیک ہولڈرز کو متحد کرکے ملک میں امن کے قیام کے لیے عمل کا آغاز کیا تھا، اس کے علاوہ قابل ذکر اقدامات اٹھائے تھے، جن میں 18ویں آئینی ترمیم، نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ اور اس کی منتقلی شامل تھی، پارلیمنٹ کو اختیارات دئیے۔ انہوں نے خامیوں کا تجزیہ کرنے اور اسے ملک کے لیے مزید قابل عمل بنانے کے لیے افغان پالیسی پر نظر ثانی کرنے پر زور دیا۔خیبرپختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے حوالے سے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی گزشتہ حکومت نے صوبے میں امن کے قیام کے لیے بھرپور کوشش کی تھی جو پاکستان تحریک انصاف کی سابقہ حکومت کی ناکارہ پالیسیوں کی وجہ سے تباہ ہو گئی تھیں۔ انہوں نے انسداد دہشت گردی کی پالیسی کو مزید موثر بنانے کے لیے اس کا جائزہ لینے پر بھی زور دیا۔پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے عدالتی مقدمات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے اور امید ظاہر کی کہ تمام معزز عدالتیں قانون کی بالادستی کو یقینی بنائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان جو ‘جیل بھرو تحریک’ کی بات کر رہے تھے درحقیقت عدالتوں میں پیش ہونے سے گریزاں تھے۔ عمران خان ماضی کی طرح جیل بھرو تحریک میں ایک اور یو ٹرن لیں گے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ گزشتہ حکومت کی ناکارہ معاشی پالیسیوں کی وجہ سے ملک کو معاشی بحران کا سامنا ہے تاہم موجودہ حکومت عام لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرکے ان کی تکالیف کو کم کرنے کی ہرممکن کوشش کر رہی ہے۔ قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین کے استعفے سے متعلق ایک اور سوال پر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ نیب ایک خودمختار ادارہ ہے اور اس کے چیئرمین کا استعفیٰ خالصتاً ان کا اپنا فیصلہ ہے۔















