اہم خبریں

پاکستان میں غربت کی شرح 29 فیصد تک پہنچ گئی، امیر اور غریب کے درمیان فرق مزید بڑھ گیا

اسلام آباد (اے بی این نیوز) پاکستان میں غربت کی شرح میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد 2025ء میں ملک کی قومی سطح پر غربت کی شرح 29 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ امیر اور غریب کے درمیان معاشی خلیج بھی وسیع ہوگئی۔

عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 2019ء کے دوران غربت کی شرح 22 فیصد تھی، جو 2025ء تک بڑھ کر 29 فیصد ہوگئی۔ اس طرح چھ سال کے دوران غربت کی شرح میں 7 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

رپورٹ میں غربت میں اضافے کی بڑی وجوہات میں مہنگائی، اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، وسائل کی غیر مساوی تقسیم اور مزدوروں کی آمدن میں کمی کو قرار دیا گیا ہے۔

عالمی بینک کے مطابق ان معاشی مسائل کا سب سے زیادہ اثر کم آمدنی والے گھرانوں پر پڑا۔ پاکستان میں 2024ء کے دوران تقریباً 7 کروڑ 26 لاکھ افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے تھے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں امیر اور غریب کے درمیان معاشی عدم مساوات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ عدم مساوات جانچنے کے انڈیکس میں پاکستان کا اسکور 2018ء میں 28.4 تھا، جو 2025ء میں بڑھ کر 32.7 ہوگیا۔

عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں روزانہ 3 ڈالر سے کم آمدن رکھنے والے افراد کی شرح 23 فیصد ریکارڈ کی گئی، جن کی تعداد 5 کروڑ 76 لاکھ سے زائد بنتی ہے۔

رپورٹ کے یہ اعدادوشمار ملک میں بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ، کم آمدنی والے طبقے کو درپیش مشکلات اور آمدن کی غیر مساوی تقسیم کی نشاندہی کرتے ہیں۔
مزیدپڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج کا دن کیسا رہے گا؟

متعلقہ خبریں