لاہور، 30 اکتوبر 2026: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ’پنجاب انوویشن، ویلیو ایڈیشن اینڈ اکنامک ٹرانسفارمیشن (PIVOT) پلان 29-2026کا باضابطہ آغاز کر دیا۔ 1,995.3 ارب روپے مالیت کی یہ جامع معاشی حکمت عملی پنجاب کو برآمدات پر مبنی صنعتی مرکز بنانے کے لیے وضع کی گئی ہے۔ اس کے اہداف میں 6.8 ارب ڈالر کی اضافی برآمدات، 162,000 نئی براہ راست ملازمتیں اور10 لاکھ سے زائد افراد کو روزگار کی فراہمی ہے۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا:
پنجاب معاشی ترقی کے ایک ایسے نئے ماڈل کی جانب بڑھ رہا ہے جس کی بنیاد صنعت، جدت، ویلیو ایڈیشن اور برآمدات پر ہو۔ ہمارا مقصد ایک ایسا ماحول فراہم کرنا ہے جہاں کاروباری ادارے اعتماد کے ساتھ سرمایہ کاری کر سکیں، صنعتیں وسعت اختیار کر سکیں اور ہمارے عوام کو روزگار اور معاش کے بہتر مواقع میسر آ سکیں۔”
وزیراعلیٰ مریم نواز کی دعوت پر عالمی سفارت کاروں، ممتاز صنعت کاروں اور مالیاتی اداروں کی اعلیٰ قیادت کی بھرپور شرکت
پیوٹ منصوبے کی افتتاحی تقریب میں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی دعوت پر ملک کی ممتاز کاروباری شخصیات، اقتصادی پالیسی سازوں، بین الاقوامی ترقیاتی اداروں اور سفارتی نمائندوں نے غیرمعمولی تعداد میں شرکت کی۔تقریب میں ملک کی نمایاں کاروباری شخصیات میاں منشا، عارف حبیب، فواد مختار، زید بشیر اور عثمان خالد وحید کی شرکت نے اس اہم معاشی اقدام میں نجی شعبے کی دلچسپی اور شمولیت کو اجاگر کیا۔
مالیاتی شعبے کی نمائندگی گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد کے علاوہ ملک کے بڑے کمرشل بینکوں اور مالیاتی اداروں کے سربراہان اور اعلیٰ عہدیداران نے کی۔بین الاقوامی سطح پر مختلف ممالک کے سفیروں، سفارتی نمائندوں اور عالمی ترقیاتی شراکت داروں نے بھی شرکت کی، جن میں عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) اور اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں کے نمائندے شامل تھے۔
تقریب میں سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب اور چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان کی قیادت میں صوبائی کابینہ کے ارکان، انتظامی سیکرٹریز اور ضلعی فوکل افسران بھی شریک ہوئے، جنہوں نے منصوبے پر عمل درآمد کے حوالے سے حکومتی ذمہ داریوں اور عملی اقدامات کی تفصیلات پیش کیں۔
کاروباری برادری سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا:
پاکستان سمیت دنیا بھر کے سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں کے لیے میرا پیغام واضح ہے کہ پنجاب آپ کی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کرتا ہے۔ ہم آپ کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں، آپ کے کاروبار کے لیے سہولتیں فراہم کرنا چاہتے ہیں اور ایسا ماحول تشکیل دینا چاہتے ہیں جس میں کاروبار ترقی کر سکیں۔ حکومت سہولت کار کا کردار ادا کرے گی اور صنعتی شعبہ معاشی ترقی کی قیادت کرے گا۔”
رعایتی مالی سہولتیں اور نجی سرمایہ کاری پیوٹ منصوبے کا بنیادی محور
پیوٹ منصوبے کا ایک اہم ستون اسٹریٹجک ٹریڈ انہانسمنٹ پروگرام (STEP) ہے، جس کے لیے ایک نیا ڈیجیٹل پورٹل بھی متعارف کرایا گیا ہے۔اس پروگرام کے تحت اہل کاروباری شعبوں کے لیے صفر سے پانچ فیصد تک رعایتی شرح پر 300 ارب روپے کی مالی سہولتیں فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے، تاکہ کاروباری اداروں کو اپنی سرگرمیوں میں توسیع کے لیے کم لاگت پر سرمایہ دستیاب ہو سکے۔ ان سہولتوں کی فراہمی پروگرام کی مقررہ شرائط و ضوابط سے مشروط ہوگی۔
یہ مالیاتی اقدام ایک وسیع سرمایہ کاری فریم ورک کا حصہ ہے، جس کے تحت 1,089 ارب روپے کی گورنمنٹ سرمایہ کاری کے ساتھ نجی شعبے سے 906 ارب روپے کی سرمایہ کاری حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا:
ہم معاشی ترقی کو صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں سمجھتے۔ پائیدار معاشی ترقی کے لیے نجی سرمایہ کاری، مضبوط صنعتی بنیاد اور سرکاری و نجی شعبوں کے درمیان م؛ثر شراکت داری ناگزیر ہے۔ حکومت کا کردار ایسا ماحول فراہم کرنا ہے جس میں نجی شعبہ جدت اختیار کر سکے، پیداوار بڑھا سکے اور مسابقت کی دوڑ میں آگے نکل سکے۔ پیوٹ منصوبے کا مقصد اسی شراکت داری کو ٹھوس اور قابلِ پیمائش معاشی ترقی میں تبدیل کرنا ہے۔”
صنعتی جدت، ویلیو ایڈیشن اور عالمی منڈیوں میں مسابقت کے فروغ کے لیے 753.7 ارب روپے مختص
پیوٹ منصوبے کے تحت صنعتی پیداوار میں اضافے، مصنوعات کی قدر افزائی اور عالمی منڈیوں میں طویل المدتی مسابقتی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے 753.7 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔صنعتوں کی پیداواری لاگت اور توانائی سے متعلق مسائل کے حل کے لیے حکومت نے سولر پاور کی تنصیبات اور بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز (BESS) کے لیے 50 ارب روپے مختص کیے ہیں۔اس کے علاوہ صنعتی مشینری پر ادا کردہ ڈیوٹی کی واپسی کے لیے مزید 50 ارب روپے رکھے گئے ہیں، تاکہ صنعت کار اپنے پیداواری یونٹس کو جدید خطوط پر استوار کر سکیں، نئی ٹیکنالوجی اختیار کریں اور بین الاقوامی معیار کے مطابق مصنوعات تیار کر سکیں۔
منصوبے میں صنعتی پیداوار کے اہم شعبوں اور ویلیو چینز پر خصوصی توجہ دی گئی ہے، جن میں گارمنٹس اور ٹیکسٹائل، کھیلوں کا سامان، چمڑے کی مصنوعات اور جوتے، آلاتِ جراحی، ادویہ سازی، پنکھے، کٹلری، اسٹیل اور سیرامکس شامل ہیں۔
صنعتوں کو بین الاقوامی معیارات اور ضابطوں سے ہم آہنگ کرنے اور برآمدی منڈیوں تک رسائی میں سہولت فراہم کرنے کے لیے جدید ٹیسٹنگ لیبارٹریز، سرٹیفکیشن مراکز اور فوری طور پر پیداواری سرگرمیاں شروع کرنے کے قابل ’پلگ اینڈ پلے‘ صنعتی سہولتوں کی فراہمی بھی منصوبے کا حصہ ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا:
ہماری صنعتوں کا ہدف محض پیداوار میں اضافہ نہیں ہونا چاہیے، بلکہ بہتر معیار کی مصنوعات کی تیاری، زیادہ قدر افزائی اور عالمی منڈیوں میں م؛ثر مسابقت بھی ہماری ترجیح ہونی چاہیے۔ ہم چاہتے ہیں کہ پنجاب کے صنعت کاروں کو جدید ٹیکنالوجی، توانائی کے قابلِ اعتماد متبادل ذرائع، معیاری صنعتی انفراسٹرکچر اور ضروری مالی وسائل میسر ہوں، تاکہ وہ اپنے کاروبار اور برآمدات کو مزید وسعت دے سکیں۔”
زرعی شعبے میں انقلاب، خام پیداوار سے اعلیٰ قدر کی مصنوعات کی تیاری کی جانب اہم پیش رفت
پنجاب کی زراعت کو محض خام اجناس کی پیداوار تک محدود رکھنے کے بجائے قدر افزائی اور جدید پراسیسنگ کی جانب منتقل کرنے کے لیے پیوٹ منصوبے کے تحت سرگودھا، خانیوال، اوکاڑہ اور بھکر میں چار خصوصی ایگرو پراسیسنگ پارکس قائم کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔
ان مراکز کا مقصد فصلوں کی کٹائی کے بعد ہونے والے نقصانات میں کمی، فوڈ پراسیسنگ کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانا اور زرعی پیداوار سے وابستہ افراد کو زیادہ منافع بخش سپلائی چینز کا حصہ بنانا ہے۔
زرعی ویلیو چین کی بہتری کے لیے گندم کی قدر افزائی، ترش پھلوں، آلو اور آم کی پیداوار کے معیار میں بہتری اور ان کی منڈیوں تک رسائی میں اضافے کے اقدامات شامل ہیں۔باغبانی اور پھولوں کی کاشت کے شعبوں کے لیے مخصوص برآمدی مالی سہولتیں فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ صوبے کے 20 اضلاع میں خصوصی ہارٹیکلچر اتھارٹیز کے قیام کا بھی منصوبہ ہے۔مزید برآں، لائیو سٹاک، ڈیری، ماہی پروری، حلال گوشت اور دودھ سے متعلق ویلیو چینز کو تجارتی بنیادوں پر وسعت دینے کے اقدامات بھی شامل کیے گئے ہیں، تاکہ پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہو اور ان شعبوں کے لیے برآمدات کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔
سیاحت، ٹیکنالوجی اور ہنرمند افرادی قوت کی ترقی کے لیے جامع اقدامات
پیوٹ منصوبے کا دائرہ صنعتی اور زرعی پیداوار کے علاوہ سیاحت، ڈیجیٹل خدمات اور افرادی قوت کی ترقی تک بھی وسیع کیا گیا ہے۔سیاحتی انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا، تاکہ سیاحتی مقامات پر معاشی سرگرمیوں کے نئے مواقع پیدا ہوں، سیاحوں کو بہتر سہولتیں میسر آئیں اور ہوٹلنگ، مہمان نوازی اور متعلقہ خدمات میں نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو۔
فنی تعلیم اور عملی صنعتوں کی ضروریات کے درمیان موجود فرق کو کم کرنے کے لیے منصوبے کے تحت تین سال کے دوران 4 لاکھ 2 ہزار 60 افرادکو تربیت فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔اس تربیتی پروگرام میں جدید صنعتوں، ابھرتے ہوئے کاروباری شعبوں اور ٹیکنالوجی پر مبنی اداروں کی حقیقی ضروریات کے مطابق، مارکیٹ کی طلب سے ہم آہنگ مہارتوں کی فراہمی پر توجہ دی جائے گی۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا:
ہمیں اپنے نوجوانوں کو مستقبل کے روزگار کے لیے تیار کرنا ہے۔ ہنرمندی کی تربیت صنعتوں کی حقیقی ضروریات اور بدلتے ہوئے معاشی تقاضوں سے ہم آہنگ ہونی چاہیے۔ ہم چاہتے ہیں کہ نوجوانوں کی تربیت محض سرٹیفکیٹ کے حصول تک محدود نہ رہے بلکہ انہیں باعزت روزگار، کاروبار کے مواقع اور بہتر معاشی مستقبل کی ضمانت فراہم کرے۔”
کاروبار ی اصلاحات اور سرمایہ کاروں کے لیے جدید ڈیجیٹل سہولتیں
پنجاب میں کاروباری ماحول کو مزید سازگار بنانے کے لیے پیوٹ منصوبے میں انتظامی اور ضابطہ جاتی اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں، جن کا مقصد کاروباری امور کو آسان بنانا اور طویل المدتی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔
ای بز (E-Biz) ڈیجیٹل اقدام کے تحت صوبائی حکومت 300 سرکاری و انتظامی خدمات کو ڈیجیٹل نظام پر منتقل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، تاکہ کاروباری معاملات کو زیادہ آسان، قابلِ رسائی اور شفاف بنایا جا سکے۔اس پروگرام میں 2 ہزار کاروباری اداروں کو ای کامرس پلیٹ فارمز سے منسلک کرنے کا ہدف بھی شامل ہے۔اس کے ساتھ لیبر قوانین کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے، سرکاری و نجی شعبے کی شراکت داری کے نظام میں اصلاحات اور نو پیداواری معاشی شعبوں میں سرکاری اراضی لیز پر دینے کی منظور شدہ اسکیموں کو بھی منصوبے کا حصہ بنایا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا:
سرمایہ کار غیرضروری انتظامی رکاوٹوں سے نمٹنے کی بجائے کاروبار قائم کرنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر توجہ دیں۔ ہم سرکاری خدمات کو زیادہ آسان، قابلِ رسائی اور شفاف بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہے ہیں۔”
پیوٹ منصوبے پر عمل درآمد، م؛ثر نگرانی اور جواب دہی کا جامع نظام
پیوٹ منصوبے کے م؛ثر نفاذ، شفاف نگرانی اور جواب دہی کو یقینی بنانے کے لیے ایک مرکزی انتظامی ڈھانچہ تشکیل دیا گیا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کی زیرِ صدارت پیوٹ بورڈمنصوبے کی نگرانی کرے گا۔
عملی اقدامات اور مختلف محکموں کے درمیان رابطہ کاری کے لیے محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات میں خصوصی پیوٹ سیکرٹریٹ قائم کیا جائے گا، جبکہ چیف سیکرٹری آفس میں بھی پیوٹ سیل کام کرے گا۔ ضلعی سطح پر ڈپٹی کمشنرز فوکل پرسنز کی ذمہ داریاں انجام دیں گے۔منصوبے پر پیش رفت کی مسلسل نگرانی کے لیے مرکزی پیوٹ ڈیش بورڈ اور انڈسٹری سکور کارڈ استعمال کیے جائیں گے۔
ان نظاموں کے ذریعے مقررہ اہداف، قابلِ پیمائش کارکردگی کے اشاریوں اور باقاعدہ جائزہ اجلاسوں کی مدد سے پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا، رکاوٹوں کی
نشاندہی کی جائے گی اور متعلقہ محکموں کی جواب دہی کو مزید م؛ثر بنایا جائے گا۔چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان نے منصوبے پر عمل درآمد کے انتظامات کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے تصدیق کی کہ اس منصوبے کو چھ ماہ کے اندر عملی شکل دے کر فعال کر دیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا:
پیوٹ محض اہداف اور وعدوں پر مشتمل ایک دستاویز بن کر نہیں رہے گا۔ اس کے ہر اقدام پر عمل درآمد کی نگرانی کی جائے گی، پیش رفت کو جانچا جائے گا اور نتائج کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا۔ ہر منصوبے کے عملی ثمرات حقیقی سرمایہ کاری، مضبوط کاروبار، برآمدات میں اضافے اور پنجاب کے عوام کے لیے بہتر مواقع کی صورت میں سامنے آنے چاہییں۔”
نجی شعبے کے بڑھتے ہوئے اعتماد اور سرمایہ کاری کے نئے امکانات
سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے پیوٹ وژن کا بنیادی مقصد حکومت کو کاروباری سرگرمیوں میں سہولت فراہم کرنے والے ادارے کے طور پر مستحکم کرنا ہے، تاکہ نجی شعبہ معاشی ترقی اور توسیع میں قائدانہ کردار ادا کر سکے۔
افتتاحی تقریب میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری میں دلچسپی کا عملی اظہار کرتے ہوئے معروف رئیل اسٹیٹ ڈویلپر عارف حبیب نے لاہور کے سی بی ڈی وٰن میں پاکستان کی بلند ترین کمرشل عمارت تعمیر کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا۔یہ اعلان پنجاب کے ترقیاتی ایجنڈے سے وابستہ سرمایہ کاری کی سرگرمیوں اور نجی شعبے کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔
پیوٹ منصوبہ آئندہ تین برسوں کے لیے ایک جامع معاشی لائحہ عمل فراہم کرتا ہے، جس کا مقصد پنجاب کی معاشی استعداد کو حقیقی سرمایہ کاری، مضبوط صنعتی صلاحیت، برآمدات میں اضافے، جدید مہارتوں کے فروغ اور روزگار کے نئے مواقع میں تبدیل کرنا ہے۔
تقریب سے اپنے اختتامی خطاب میں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا:
ہمارا عزم ایک ایسا پنجاب تعمیر کرنا ہے جہاں کاروبار ترقی کریں، ہماری صنعتیں عالمی سطح پر مسابقت کی صلاحیت رکھتی ہوں، کسانوں کو اپنی محنت اور پیداوار کا بہتر معاوضہ ملے اور نوجوانوں کو ترقی کے بامقصد مواقع میسر آئیں۔ ہم سرمایہ کاری اور شراکت داری کے لیے پنجاب کے دروازے کھول رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ہم سب مل کر پنجاب کی معاشی صلاحیت کو حقیقی خوشحالی میں تبدیل کر سکتے ہیں۔”















