کراچی ( اے بی این نیوز) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ آئینی اور قانونی طریقے سے ایمرجنسی نافذ کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف سب کو مل کر مقابلہ کرنا ہوگا اور پاکستان کے کسی بھی حصے میں قومی پرچم اتارنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
کارساز کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے سانحہ کارساز کو پاکستان کی تاریخ کا المناک واقعہ قرار دیا اور کہا کہ دہشت گردوں کا مقابلہ سب کو مل کر کرنا ہوگا۔
18 اکتوبر 2007 وہ دن تھا جب شہید محترمہ بے نظیر بھٹو جلاوطنی ختم کرکے وطن واپس آئیں، مگر ان کے قافلے کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا۔ سانحۂ کارساز میں پاکستان پیپلز پارٹی کے بہادر کارکنان اور جاں نثاروں نے پہلے خودکش حملے کے بعد بھاگنے کے بجائے اپنی قائد کی حفاظت کے لیے ان کے ٹرک کی طرف دوڑ لگائی اور دوسرے بم دھماکے میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکن دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کرنا اور اس کا مقابلہ کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ شہدائے کارساز کی قربانیاں ہماری تاریخ کا حصہ اور ہمارے عزم کی پہچان ہیں۔
شہدائے کارساز کو سلام، ان کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
#SalaamShuhadaEKarsaz
— PPP (@MediaCellPPP) October 18, 2026
بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر سہیل آفریدی دہشت گردوں کا مقابلہ نہیں کریں گے تو پیپلز پارٹی یہ کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے کسی بھی حصے سے قومی پرچم اتارنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
چیئرمین پیپلز پارٹی کے مطابق وفاقی حکومت نے انتخابی اصلاحات کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اپوزیشن کو بھی اس میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن واقعی دہشت گردی اور خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے معاملے کا حل چاہتی ہے تو اسے مذاکرات کے لیے آگے آنا چاہیے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو حکومتی پالیسی پر تنقید کرنے کا حق حاصل ہے، تاہم وہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی موجودگی سے انکار نہیں کرسکتے۔
مزید پڑھیں:سلمان علی آغا کی شاندار سنچری، سری لنکا کو مشکل ہدف دے دیا گیا















