اسلام آباد (اے بی این نیوز) عراق کے وزیراعظم علی الزیدی نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ بغداد اپنی سرزمین سعودی عرب یا کسی دوسرے پڑوسی ملک پر حملوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔
سعودی خبر رساں ادارے العربیہ کے مطابق مئی 2026 میں وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد علی الزیدی کا سعودی عرب کا یہ پہلا سرکاری دورہ ہے۔ خلیجی ممالک کے دورے کے آغاز پر بدھ کو ریاض میں ان کی سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے اہم ملاقات ہوئی۔
ملاقات میں علاقائی صورتِ حال، سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ عراقی میڈیا کے مطابق دونوں رہنماؤں نے علاقائی خطرات سے نمٹنے اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا۔
رئيس مجلس الوزراء السيد علي فالح الزيدي، يلتقي في الرياض وليّ عهد المملكة العربية السعودية سموّ الأمير محمد بن سلمان بن عبدالعزيز آل سعود ويناقش تطورات الأحداث الإقليمية وتنسيق الجهود بشأنها بما يعزز أمن واستقرار المنطقة.
#الحكومة_العراقية https://t.co/C49wQYotQh
— Government of Iraq – الحكومة العراقية (@IraqiGovt) October 14, 2026
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے کہا کہ عراق اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات اور ان کی خودمختاری کے احترام کی پالیسی پر قائم ہے۔ انہوں نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے حالیہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا علاقائی سلامتی اور استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے بھی علاقائی استحکام اور مذاکرات کے فروغ کے لیے عراقی حکومت کی کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا۔
🚨 قمة سعودية 🇸🇦 عراقية 🇮🇶 في الرياض
📌 استقبل #ولي_العهد السعودي الأمير #محمد_بن_سلمان رئيس مجلس الوزراء العراقي #علي_الزيدي، في #الرياض.
📌 بحث الجانبان:
ـ تطورات الأحداث الإقليمية.
ـ تنسيق الجهود بما يعزز أمن واستقرار المنطقة. https://t.co/XXrm0kSurE
— غازي الحارثي | Ghazi (@Ghaazey) October 14, 2026
یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور سعودی عرب کو میزائل اور ڈرون حملوں کے خطرات کا سامنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یمن کی ایران نواز حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی شہروں اور ہوائی اڈوں کی سمت حملوں میں بھی تیزی آئی ہے۔
اس سے قبل جولائی میں علی الزیدی کا سعودی عرب کا دورہ عراقی سرزمین سے سعودی عرب پر حملوں کے بعد منسوخ ہوگیا تھا۔ بعد ازاں اگست میں بغداد میں عراقی وزیراعظم نے سعودی انٹیلی جنس چیف خالد بن علی الحمیدان سے ملاقات کی تھی، جس میں انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ عراق کی سرزمین دوسرے ممالک پر حملوں کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔ اس موقع پر دونوں ممالک نے انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور سیکیورٹی تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا تھا۔
مزیدپڑھیں:شعیب ملک سے شادی کی افواہیں، اداکارہ ونیزہ ستار نے خاموشی توڑ دی















