اہم خبریں

پشاور کنزیومر کورٹ کا بڑا فیصلہ، برانڈڈ شاپنگ بیگ کی قیمت وصولی پر کھاڈی کو جرمانہ

پشاور (اے بی این نیوز) پشاور کنزیومر پروٹیکشن کورٹ نے معروف برانڈ ’کھاڈی‘ کے شاپنگ بیگز سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے صارفین سے برانڈڈ شاپنگ بیگ کی قیمت وصول کرنے کو غیر منصفانہ تجارتی عمل قرار دے دیا۔

کنزیومر پروٹیکشن کورٹ پشاور کے جج نصر اللہ خان گنڈا پور نے یہ فیصلہ 16 ستمبر 2026 کو ’کھاڈی پاکستان (ایس ایم سی-پرائیویٹ) لمیٹڈ‘ کے خلاف دائر شکایت پر سنایا۔

عدالتی فیصلے کے مطابق شکایت کنندہ شفق عامر نے 20 دسمبر 2025 کو پشاور کے یونیورسٹی روڈ پر واقع کھاڈی کے آؤٹ لیٹ سے 7 ہزار روپے مالیت کے کپڑے خریدے۔ خریداری کے دوران کمپنی کے لوگو والے شاپنگ بیگ کے لیے الگ سے 30 روپے وصول کیے گئے۔

کمپنی نے بیگ کے 30 روپے وصول کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ وہ صارفین کو مفت شاپنگ بیگ فراہم کرنے کی قانونی پابند نہیں اور بیگ صارف کی درخواست پر ایک اختیاری شے کے طور پر دیا گیا تھا۔

عدالت نے خریداری کی رسید کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ شاپنگ بیگ کی قیمت 30 روپے واضح طور پر رسید میں درج تھی۔ عدالت نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ بیگ پر کمپنی کا برانڈ لوگو نمایاں تھا، جس سے کمپنی کو تشہیری فائدہ حاصل ہو رہا تھا۔

فیصلے میں قرار دیا گیا کہ جب شاپنگ بیگ پر ریٹیلر کی اپنی تشہیری برانڈنگ موجود ہو تو اس تشہیری مواد کی لاگت صارف سے وصول کرنا خیبر پختونخوا کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ 1997 کے تحت غیر منصفانہ تجارتی عمل کے زمرے میں آتا ہے۔

عدالت نے شکایت کو درست قرار دیتے ہوئے کھاڈی کو شکایت کنندہ کو شاپنگ بیگ کی مد میں وصول کیے گئے 30 روپے واپس کرنے کا حکم دیا۔

عدالت نے کمپنی کو شکایت کنندہ کو 25 ہزار روپے ہرجانہ ادا کرنے جبکہ حکومت کو 25 ہزار روپے جرمانہ جمع کرانے کا بھی حکم دیا۔

یہ فیصلہ ان ریٹیلرز کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے جو صارفین سے ایسے شاپنگ بیگز کی قیمت وصول کرتے ہیں جن پر ان کے کاروبار کا لوگو یا دیگر تشہیری مواد موجود ہوتا ہے۔ تاہم فیصلے کا اطلاق متعلقہ قانونی حقائق اور حالات کے مطابق ہوگا۔

عدالت نے ضروری قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد کیس کی فائل ریکارڈ روم میں جمع کرانے کی ہدایت بھی کی۔
مزیدپڑھیں: حرمین شریفین کی حرمت پرکوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،دفترخارجہ

متعلقہ خبریں