لاہور (اے بی این نیوز) سرکاری ملازمین کی پنشن سے متعلق اہم فیصلے میں لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ پانچ سال کی مسلسل ملازمت مکمل کرنے والا سرکاری ملازم پنشن اور دیگر مراعات کا حقدار ہوگا۔
جسٹس مزمل اختر شبیر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے پنجاب حکومت کی اپیل خارج کرتے ہوئے سنگل بینچ کا فیصلہ برقرار رکھا اور انتقال کر جانے والے ملازم کی بیوہ کنیزہ فاطمہ کو پنشن اور دیگر مراعات دینے کا حکم بھی برقرار رکھا۔
عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ کنٹریکٹ پر پانچ سال اور بعد ازاں ریگولر سروس کرنے والے ملازم کی مجموعی 10 سالہ ملازمت پنشن کے لیے شمار کی جائے گی۔
عدالت کے مطابق ریکارڈ سے ثابت ہوا کہ بیوہ کے شوہر نے محکمہ صحت میں 2005 میں کنٹریکٹ پر نائب قاصد کی حیثیت سے ملازمت شروع کی، 2010 میں انہیں ریگولر کیا گیا، جبکہ 2016 میں ان کا انتقال ہوگیا۔
پنجاب حکومت کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ پنشن کے لیے 10 سالہ سروس کا ریگولر ہونا ضروری ہے اور کنٹریکٹ سروس کو پنشن کے لیے شمار نہیں کیا جاسکتا۔
تاہم عدالت نے قرار دیا کہ ملازم نے ریگولر ہونے سے قبل مسلسل پانچ سال کنٹریکٹ سروس کی اور بعد ازاں ریگولر ہوگیا، اس لیے اسے پنشن اور دیگر مراعات سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔
حکومت کے وکیل نے سنگل بینچ کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دینے کا مؤقف بھی اختیار کیا، تاہم دو رکنی بینچ نے قرار دیا کہ سنگل بینچ کے فیصلے میں کوئی غیر قانونی بات نہیں۔
عدالت نے پنجاب حکومت کی اپیل خارج کرتے ہوئے بیوہ کنیزہ فاطمہ کو پنشن اور دیگر مراعات دینے کا فیصلہ برقرار رکھا۔
مزید پڑھیں:سکول دو دن بند رہیں گے، بڑی خبر سامنے آگئی















