منیلا (اے بی این نیوز) فلپائن میں شدید بارشوں اور سیلاب کے باوجود ایک جوڑے نے زیرِ آب چرچ میں شادی کرکے سب کی توجہ حاصل کرلی۔
منیلا کے شمال میں واقع ہاگونوئے ٹاؤن کے سینٹ جان دی بپٹسٹ چرچ میں شادی کے وقت سیلابی پانی گھٹنوں تک پہنچا ہوا تھا، تاہم لیان لیزا گالانگ اور گلبرٹ چیکو نے تقریب منسوخ کرنے کے بجائے ہر حال میں شادی کرنے کا فیصلہ کیا۔
سفید عروسی لباس میں ملبوس دلہن ہاتھ میں پھولوں کا گلدستہ تھامے سیلابی پانی سے گزر کر چرچ پہنچی، جہاں پادری نے مختصر تقریب کے دوران دونوں کو میاں بیوی قرار دے دیا۔
شادی کے فوٹوگرافر میکو رے الفونسو کے مطابق چرچ انتظامیہ نے بڑھتے ہوئے سیلاب کے باعث جوڑے کو تقریب مؤخر کرنے کا مشورہ دیا تھا، تاہم دونوں اپنے فیصلے پر قائم رہے۔ چرچ تقریباً ایک ماہ سے جزوی طور پر سیلابی پانی میں گھرا ہوا تھا، لیکن عملے نے جوڑے کی خواہش پوری کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون کیا۔
دولہا گلبرٹ چیکو نے کہا کہ انہیں اس بات کی پروا نہیں تھی کہ ان کے عروسی کپڑے پانی سے بھیگ جائیں گے، کیونکہ وہ ہر صورت شادی کرنا چاہتے تھے۔ دلہن کے لیے سیلابی پانی میں چلنا آسان بنانے کے لیے عروسی لباس کا دامن بھی مختصر کیا گیا۔
جوڑا چرچ تک بلند شاسی والی رکشہ نما گاڑی میں پہنچا، جبکہ شادی کی ایک تصویر میں ایک بچے کو سیلابی پانی میں شادی کی انگوٹھیاں لے کر چرچ کی جانب جاتے دیکھا گیا۔ تقریب میں 15 سے بھی کم افراد شریک ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق فلپائن کے شمالی علاقوں میں اگست کے دوران معمول سے زیادہ شدید مون سون بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ اور اچانک آنے والے سیلاب سے کم از کم 34 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں رِگر کے طور پر کام کرنے والے گلبرٹ چیکو کے مطابق دونوں نے دسمبر میں شادی کا منصوبہ بنایا تھا، تاہم سیلاب بھی ان کے عزم اور محبت کے درمیان رکاوٹ نہ بن سکا۔
مزید پڑھیں:قومی ٹیم کی ناقص کارکردگی، چیئرمین پی سی بی کا بڑا مؤقف سامنے آگیا















