چاند گرہن آئندہ ہفتے 27 اور 28 اگست کی درمیانی شب رونما ہوگا، تاہم پاکستان میں اس فلکیاتی منظر کو براہ راست دیکھنا ممکن نہیں ہوگا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق یہ تکنیکی طور پر جزوی چاند گرہن ہوگا، لیکن اس دوران چاند کا بڑا حصہ زمین کے سائے میں آنے کے باعث منظر تقریباً مکمل گرہن جیسا دکھائی دے گا۔
فلکیاتی حساب کے مطابق گرہن کا ابتدائی مرحلہ 28 اگست کو رات 1 بج کر 23 منٹ پر شروع ہوگا، جب چاند زمین کے ہلکے سائے میں داخل ہونا شروع کرے گا۔ اس کے بعد رات 2 بج کر 33 منٹ پر جزوی گرہن کا نمایاں مرحلہ شروع ہوگا۔
گرہن اپنے عروج پر صبح 4 بج کر 12 منٹ پر پہنچے گا۔ اس وقت زمین کا گہرا سایہ چاند کے بڑے حصے کو ڈھانپ لے گا، جس کے باعث چاند کا رنگ نارنجی یا سرخی مائل دکھائی دے سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق چاند کے قطر کا تقریباً 93 فیصد حصہ زمین کے گہرے سائے یعنی امبرا میں داخل ہوگا، جبکہ سطحی رقبے کے اعتبار سے تقریباً 96 فیصد حصہ سائے میں چھپ جائے گا۔ چاند کا صرف ایک چھوٹا حصہ روشن دکھائی دینے کی توقع ہے۔
گہرے سائے سے چاند کے نکلنے کا عمل صبح 5 بج کر 52 منٹ پر مکمل ہوگا، جبکہ گرہن کا آخری ہلکا مرحلہ تقریباً صبح 7 بج کر 2 منٹ پر اختتام پذیر ہوگا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق پاکستان میں یہ نظارہ دکھائی نہیں دے گا، تاہم دنیا کے مختلف ممالک میں لوگ اسے دیکھ سکیں گے۔ آسمان صاف ہونے اور چاند کے افق سے اوپر ہونے کی صورت میں متعلقہ علاقوں میں فلکیاتی منظر زیادہ واضح ہوگا۔
چاند گرہن کو براہ راست دیکھنے کے لیے خصوصی حفاظتی چشموں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ماہرین کے مطابق دوربین یا بائنوکیولرز کے ذریعے اس منظر کو مزید واضح انداز میں دیکھا جاسکتا ہے۔















