دوحہ: ٹرمپ سے مایوس خلیجی ممالک کی تشویش میں اضافہ ہوا ہے اور سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر سمیت دیگر خلیجی ریاستیں ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے ممکنہ اثرات پر فکرمند ہیں۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق خلیجی اتحادیوں کو خدشہ ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ختم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں ابھی تک کوئی واضح اور قابلِ اعتماد راستہ اختیار نہیں کر سکیں۔ خطے میں جاری بحران کے باعث خلیجی ممالک اپنی سلامتی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے حوالے سے خاص طور پر محتاط ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خلیجی ریاستوں کی تشویش صرف امریکا کی فوجی کارروائیوں تک محدود نہیں بلکہ انہیں ایران کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائیوں کا بھی خطرہ ہے۔ ماضی میں ایران کی طرف سے خطے میں موجود امریکی تنصیبات اور اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں سامنے آ چکی ہیں۔
خلیجی ممالک کے لیے آبنائے ہرمز کی صورتحال بھی انتہائی اہم ہے۔ یہ راستہ عالمی توانائی کی تجارت کے لیے اہم حیثیت رکھتا ہے اور اس میں رکاوٹ سے تیل اور گیس کی ترسیل کے ساتھ خطے کی معیشت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ حالیہ کشیدگی کے دوران اس راستے سے جہازوں کی آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق خلیجی حکام کو اس بات کی بھی فکر ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی معاہدے میں میزائل، ڈرونز اور خطے میں موجود مسلح گروہوں سے متعلق خدشات کو کس حد تک شامل کیا جائے گا۔ خلیجی ممالک نے طویل عرصے سے امریکا کے ساتھ دفاعی تعلقات کو اپنی علاقائی سلامتی کا اہم ستون سمجھا ہے، تاہم موجودہ بحران نے ان ممالک کو اپنی حکمت عملی پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کیا ہے۔
دوسری جانب سعودی عرب سمیت بعض خلیجی ممالک کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کرنے پر زور دیتے رہے ہیں۔ ایران کی جانب سے بھی حالیہ دنوں میں خلیجی ممالک کو خبردار کیا گیا ہے کہ امریکی حملوں کا سلسلہ جاری رہنے کی صورت میں خطے کے اہم بنیادی ڈھانچے کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
موجودہ صورتحال میں خلیجی ریاستوں کی ترجیح واضح طور پر جنگ کے دائرے کو مزید پھیلنے سے روکنا، توانائی کی ترسیل کو محفوظ رکھنا اور اپنے شہری و اقتصادی مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔















