اسلام آباد ( اے بی این نیوز )صحافی ارشد شریف قتل ازخودنوٹس کیس کی گزشتہ سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا گیا،سپریم کورٹ نے سپیشل جے آئی ٹی کو تین سوالات کی تحقیقات کی ہدایت کردی، سپریم کورٹ نے تحریری حکم میں کہاارشد شریف نے پاکستان کیوں چھوڑا؟ سپیشل جے آئی ٹی درج مقدمات کی تحقیقات کرے،خصوصی جے آئی ٹی ارشد شریف کے پاس حساس معلومات کے بارے بھی تحقیقات کرے،دو رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ کیسے جاری ہوئی اور اس کے مقاصد کیا تھے؟ دوبئی حکومت نے ارشد شریف کو دوبئی چھوڑنے کا حکم کیوں دیا تھا؟ حکمنامہ کے مطابق ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو وزارت خارجہ اور خصوصی جے آئی ٹی کی رپورٹس بارے آگاہ کیا،وزارت خارجہ نے رپورٹ میں بتایا کہ سپیشل جے آئی ٹی کو کینیا اور یو اے ای وزٹ کے لیے کیا اقدامات کیے گئے، خصوصی جے آئی ٹی نے ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کے لیے اب تک کے اقدامات بارے آگاہ کیا، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ کینیا کی حکومت تحقیقات کے لیے تعاون نہیں کر رہی،ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق سپیشل جے آئی ٹی کو نہ گواہان سے ملنے دیا گیا اور نہ جائے وقوعہ دیکھنے کی اجازت ملی،سپیشل جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ جاری کرنے سے کینیا کے حکام چوکنا ہو گئے، اس موقع پر کینین حکومت کے نقطہء نظر میں تبدیلی کے بارے میں کوئی قیاس آرائی نہیں کرنا چاہتے، وزارت خارجہ کینین حکومت کے سامنے تحقیقات میں تعاون نہ کرنے کا معاملہ اٹھائے، وزارت خارجہ کو کینین حکومت سے یم ایل اے کے تحت تعاون حاصل کرنے کے لیے دو ہفتے کی مزید مہلت دی جاتی ہے، کیس کو مارچ میں دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔















