لاہور میں زیرِ تفتیش غیر ملکی خواتین اغوا کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ متاثرہ خواتین کے ریکارڈ شدہ بیانات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر ملزمان کی گرفت سے فرار ہونے کے بعد ایک مکینک کی ورکشاپ میں پناہ لی اور وہیں سے پولیس کو اطلاع دی۔
تحقیقاتی ذرائع کے مطابق ایک خاتون نے اپنے بیان میں بتایا کہ ملزمان انہیں گاڑی میں ایک مقام سے دوسرے مقام پر لے جا رہے تھے کہ راستے میں گاڑی کا ایک اور گاڑی سے تصادم ہوگیا۔ حادثے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دونوں خواتین نے گاڑی سے چھلانگ لگائی، سڑک پر دوڑیں اور مدد کے لیے آوازیں لگائیں۔
بیان کے مطابق دونوں خواتین قریبی مکینک کی ورکشاپ پہنچیں، جہاں انہوں نے خود کو محفوظ بنایا اور پولیس سے فوری رابطہ کیا۔ پولیس موقع پر پہنچی اور دونوں خواتین کو اپنی تحویل میں لے لیا۔
دوسری غیر ملکی خاتون اسٹیفنی نے بھی تفتیشی حکام کو بتایا کہ وہ اپنی ساتھی کے ہمراہ اپنے کاروباری شراکت دار احمد رضا ڈار کی دعوت پر پاکستان آئی تھیں تاکہ ممکنہ سرمایہ کاروں سے ملاقات کی جا سکے۔
انہوں نے بیان دیا کہ دونوں خواتین 26 جون کو پاکستان پہنچیں اور 29 جون تک اسلام آباد میں قیام کیا۔ اس دوران انہوں نے نتھیا گلی کا دورہ کیا، مختلف ریسٹورنٹس گئے اور خریداری بھی کی۔
اسٹیفنی کے مطابق 28 جون کو انہیں مختلف سرمایہ کاروں سے ملاقاتوں میں بھی شریک کیا گیا، جبکہ 29 جون کی رات وہ لاہور پہنچیں۔
غیر ملکی خواتین اغوا کیس میں سامنے آنے والے یہ بیانات تفتیش کا حصہ بن چکے ہیں۔ پولیس مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ قانون کے مطابق ملزمان کو بھی عدالتی کارروائی کے دوران اپنا مؤقف پیش کرنے کا مکمل حق حاصل ہوگا۔















