اہم خبریں

ترقیاتی منصوبوں کے لیے جاری 75 ارب روپے کا ریکارڈ مشکوک، آڈیٹر جنرل نے کابینہ ڈویژن سے جواب طلب کر لیا

اسلام آباد(رضوان عباسی )آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے وفاق اور صوبوں کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے جاری کیے گئے 75 ارب روپے کے فنڈز پر سنگین تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ان کے استعمال اور نگرانی کے نظام پر بڑے سوالات اٹھا دیے ہیں۔

آڈٹ دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف پروگرام کے تحت کابینہ ڈویژن نے مالی سال 2024-25 کے دوران وفاقی وزارتوں، ڈویژنوں اور صوبائی حکومتوں کو مجموعی طور پر 75 ارب روپے جاری کیے، تاہم ان فنڈز کے استعمال کی مؤثر نگرانی نہیں کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق کابینہ ڈویژن ترقیاتی منصوبے مکمل کرنے والی کسی بھی وزارت، ادارے یا ایجنسی سے منصوبوں کی ماہانہ پیش رفت رپورٹس حاصل کرنے میں ناکام رہا، جبکہ منصوبوں کی تکمیل کے بعد لازمی کمپلیشن سرٹیفکیٹس بھی وصول نہیں کیے گئے۔

آڈیٹر جنرل نے اپنی رپورٹ میں نشاندہی کی ہے کہ دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر اس بات کی تصدیق نہیں کی جا سکتی کہ جاری کیے گئے 75 ارب روپے واقعی ترقیاتی منصوبوں پر خرچ ہوئے یا نہیں۔ رپورٹ کے مطابق فنڈز کے استعمال سے متعلق قابلِ اعتماد ریکارڈ اور دستاویزی شواہد بھی فراہم نہیں کیے جا سکے۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق یہ اعتراض 5 نومبر 2025 کو کابینہ ڈویژن کے علم میں لایا گیا تھا، تاہم رپورٹ کو حتمی شکل دیے جانے تک کابینہ ڈویژن کی جانب سے آڈٹ اعتراضات کا کوئی باضابطہ جواب جمع نہیں کرایا گیا۔

آڈیٹر جنرل نے سفارش کی ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کی شفاف نگرانی، فنڈز کے بروقت استعمال اور پیش رفت کی مؤثر جانچ کے لیے ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرایا جائے تاکہ ہر منصوبے کی پیش رفت اور اخراجات کی مؤثر انداز میں نگرانی کی جا سکے۔

رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ ترقیاتی فنڈز کے استعمال میں شفافیت، جوابدہی اور مؤثر نگرانی کے نظام کو مضبوط بنایا جائے تاکہ عوامی وسائل کے استعمال کو مکمل طور پر دستاویزی اور قابلِ تصدیق بنایا جا سکے.
مزید پڑھیں: پیپلز پارٹی کی پہلی انتخابی فہرست جاری، 12 نشستوں پر فیصلہ مؤخر، چوہدری یاسین دو حلقوں سے امیدوار

متعلقہ خبریں