اہم خبریں

بجٹ 2026-27: سرکاری ملازمین کیلئے خوشخبری، تنخواہوں میں اضافے کی تجویز

اسلام آباد: بجٹ 2026-27 میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیے جانے کی تجویز سامنے آ گئی ہے، جس کے تحت وفاقی ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو بھی ریلیف دینے پر غور کر رہی ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق بجٹ 2026-27 میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کے ساتھ ساتھ تنخواہ دار افراد کے لیے انکم ٹیکس میں نرمی کی تجاویز بھی زیر غور ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ سالانہ 12 لاکھ سے 24 لاکھ روپے آمدن رکھنے والے افراد کو ٹیکس میں ریلیف مل سکتا ہے۔

مجوزہ بجٹ کا مجموعی حجم تقریباً 18 ہزار ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز عائد کیے جانے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حکومت مالیاتی اہداف کے حصول کے لیے مختلف شعبوں میں اصلاحات اور محصولات بڑھانے کی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے۔

دستاویزات کے مطابق وفاقی وزارتوں اور محکموں کے غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے تقریباً 1,070 ارب روپے مختص کیے جا سکتے ہیں، جبکہ پنشن کی مد میں 1,100 ارب روپے سے زائد رقم رکھنے کی تجویز ہے۔

سماجی بہبود کے شعبے میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے لیے 838 ارب روپے مختص کیے جانے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ مستحق خاندانوں کو دی جانے والی سہ ماہی مالی امداد 13 ہزار روپے سے بڑھا کر 14 ہزار 500 روپے کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

ذرائع کے مطابق پٹرولیم مصنوعات پر موسمیاتی لیوی 2.5 روپے سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب درآمدی کاسمیٹکس مصنوعات پر بعض ڈیوٹیز میں کمی کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔

آٹو موبائل سیکٹر میں مقامی طور پر اسمبل ہونے والی ہائبرڈ گاڑیوں پر سیلز ٹیکس 8.5 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ مقامی پرزہ جات کی تیاری کے اہداف پورے نہ ہونے کی صورت میں صنعت کو دی گئی بعض ٹیکس مراعات واپس لی جا سکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر تنخواہوں میں اضافے اور ٹیکس ریلیف کی تجاویز منظور ہو جاتی ہیں تو مہنگائی کے دباؤ کا سامنا کرنے والے لاکھوں ملازمین کو کچھ حد تک مالی سہولت مل سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں