اہم خبریں

اوگرا کی بریفنگ میں بڑا انکشاف: جعلی کلیمز اور اربوں روپے کے اضافی مطالبات، ایف آئی اے سے کارروائی کی سفارش

اسلام آباد(اے بی این نیوز)منگل کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کیبنٹ سیکرٹریٹ کا اجلاس سینیٹر رانا محمود الحسن کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی اراکین، سیکرٹری کیبنٹ سیکرٹریٹ، چیئرمین اوگرا اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران اوگرا حکام نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (OMCs) سے متعلق اہم امور پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بعض کمپنیوں نے مبینہ طور پر جعلی کلیمز جمع کرائے، جبکہ کچھ کے پاس مطلوبہ تیل کا ذخیرہ بھی موجود نہیں تھا، اس کے باوجود انہوں نے حکومت سے کروڑوں روپے کے مطالبات کیے۔

چیئرمین اوگرا نے کمیٹی کو بتایا کہ ایف آئی اے اور دیگر متعلقہ ادارے عوامی پیسے میں مبینہ کرپشن کے معاملات کا نوٹس لے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے زیر التوا کلیمز کے حل میں تین سے چار ہفتے لگیں گے، جس پر کمیٹی نے ایک ماہ کی مہلت دی۔

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ مشرق وسطیٰ کے تنازع کے باعث آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے حکومت سے سبسڈی کی مد میں 82.5 ارب روپے کا مطالبہ کیا تھا۔ حکومت نے 14 مارچ کو عالمی تیل قیمتوں میں اضافے کا بوجھ برداشت کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

چیئرمین اوگرا کے مطابق پہلے تین ہفتوں کے دوران مختلف مدات میں ادائیگیاں کی جا چکی ہیں، جبکہ مجموعی طور پر کمپنیوں کو 40 فیصد رقوم پہلے ہی فراہم کی جا چکی ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت کو آئندہ دو ہفتوں کے لیے اضافی 50 سے 55 ارب روپے کی ادائیگی بھی کرنا ہوگی۔

اجلاس میں اراکین کمیٹی نے جعلی کلیمز اور مبینہ بے ضابطگیوں پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سفارش کی کہ ملوث کمپنیوں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کی جائے تاکہ مالی بدعنوانی کا سدباب کیا جا سکے۔
GO مزید پڑھیں: پیٹرولیم کا بڑا فراڈ بے نقاب ایف آئی اے نے کارروائی کا آغاز کر دیا

متعلقہ خبریں