اہم خبریں

آبنائے ہرمز میں ایران کی چھ کشتیوں کو تباہ کر دیاامریکہ ،جھوٹا دعویٰ ہے، ایران

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی us iran tensions ایک بار پھر بڑھ گئی ہے جہاں امریکا اور ایران کے درمیان بحری محاذ پر متضاد بیانات strait of hormuz نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکی افواج نے تجارتی جہاز رانی میں مداخلت کرنے والی ایران کی چھ چھوٹی کشتیوں کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی عالمی بحری راستوں کے تحفظ کے لیے کی گئی، جبکہ ایران کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ امریکی فوجی اثاثوں سے دور رہے۔ مزید یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ ایران کی جانب سے کروز میزائلوں کے ذریعے تجارتی اور فوجی جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، جس کے بعد حفاظتی اقدامات مزید سخت کیے گئے۔

جنوبی وزیرستان سے افسوسناک خبر، جا نئے کتنے شہری زخمی ہو ئے،بڑی تباہی ٹل گئی
امریکی بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی توقعات سے زیادہ مؤثر ثابت ہو رہی ہے اور اس کے اثرات واضح طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔دوسری جانب تہران سے سامنے آنے والے ردعمل میں ایرانی فوجی عہدیدار نے امریکی دعووں کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ سرکاری ٹی وی پر گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے کسی ایرانی کشتی کو تباہ نہیں کیا اور یہ تمام بیانات حقیقت کے برعکس ہیں۔

ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کے متضاد بیانات خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتے ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز جیسے اہم عالمی تجارتی راستے پر اس قسم کی صورتحال عالمی معیشت اور توانائی کی ترسیل کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

سوشل میڈیا پر بھی یہ صورتحال تیزی سے زیر بحث ہے، جہاں صارفین عالمی امن، تیل کی سپلائی اور ممکنہ تصادم کے خدشات پر اظہار خیال کر رہے ہیں۔ عالمی برادری کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ کشیدگی سفارتی سطح پر کم ہو پاتی ہے یا مزید شدت اختیار کرتی ہے۔

متعلقہ خبریں