اسٹیٹ بینک آف پاکستان( State Bank of Pakistan ) نے نئی مانیٹری پالیسی ( Pakistan monetary policy )کا اعلان کرتے ہوئے بنیادی شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کردیا ہے، جس کے بعد شرح سود بڑھ کر 11.50 فیصد ہوگئی ہے۔ مرکزی بینک کے مطابق نئی شرح سود کا اطلاق 28 اپریل 2026 سے ہوگا۔
مانیٹری پالیسی کمیٹی نے موجودہ معاشی صورتحال، بڑھتی مہنگائی، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے اور بیرونی معاشی دباؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا۔ اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ شرح سود میں اضافے کا مقصد مہنگائی پر قابو پانا، مالی استحکام برقرار رکھنا اور معیشت کو سہارا دینا ہے۔
امریکہ ایران جنگ،تین دن اہم، اختیارات ٹرمپ کے ہاتھ سے نکل جائیں گے،جا نئے تفصیل
ماہرین کے مطابق شرح سود بڑھنے سے بینک قرضے مہنگے ہوجائیں گے، جس سے کاروباری سرگرمیوں اور صنعتی شعبے پر اثر پڑ سکتا ہے، تاہم اس اقدام سے مہنگائی کی رفتار کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
حالیہ مہینوں میں عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور بیرونی مالی دباؤ کے باعث پاکستان کی معیشت کو چیلنجز کا سامنا ہے، جس کے پیش نظر اسٹیٹ بینک نے سخت مالیاتی پالیسی اختیار کی ہے۔















