اہم خبریں

ایران کے پاس اتنا افزودہ مواد جمع ہو چکا ہے جو دس سے زائد ایٹمی وارہیڈز بنانے کے لیے کافی ہو سکتا ہے، جوہری توانائی ایجنسی

نیویارک (اے بی این نیوز    ) اسرائیلی حملوں کے بعد ایران میں اناج کی قلت کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ روسی حکام کے مطابق ایران کے ساتھ اناج کی تجارت عارضی طور پر معطل ہو چکی ہے، جس سے سپلائی چین متاثر ہونے کا امکان ہے۔ یہ تجارت عموماً بحیرہ اسود اور بحیرہ کیسپین کے راستوں سے کی جاتی تھی، جو حالیہ کشیدگی کے باعث غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔

ادھر عالمی سطح پر ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق بیانات بھی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ عالمی جوہری توانائی ایجنسی نے کہا ہے کہ انسپکٹرز کو ایران میں ایٹمی ہتھیار بنانے کے کسی منظم پروگرام کے شواہد نہیں ملے۔ ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے دعوؤں کے باوجود ایٹم بم بنانے کا کوئی باقاعدہ ڈھانچہ سامنے نہیں آیا۔

تاہم رافیل گروسی نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران ساٹھ فیصد تک یورینیم افزودہ کر چکا ہے، جو سویلین ضروریات سے کہیں زیادہ ہے۔ ان کے مطابق اتنی بلند سطح کی افزودگی عموماً وہی ممالک کرتے ہیں جن کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہوں، اگرچہ انہوں نے دوٹوک کہا کہ ایران کے پاس اس وقت ایٹمی بم موجود نہیں۔

ایجنسی کے مطابق ایران کے پاس اتنا افزودہ مواد جمع ہو چکا ہے جو نظریاتی طور پر دس سے زائد ایٹمی وارہیڈز بنانے کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔ یہی نکتہ عالمی برادری کے لیے گہری تشویش کا باعث بنا ہوا ہے، کیونکہ اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو خطے میں عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے۔

مزید پڑھیں :امریکہ انسانی قاتل اور مجرم ہے، ٹرمپ جیسے افراد سے امن کی امید رکھنا سوالیہ نشان ہے،مولانا فضل الرحمان

متعلقہ خبریں