اسلام آباد(اے بی این نیوز )سیاسی رہنما بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عالمی منظرنامے میں یہ تاثر دیا جارہا ہے جیسے دنیا میں صرف اسرائیل ہی طاقت رکھتا ہے، حالانکہ خطے کی صورتحال کہیں زیادہ پیچیدہ اور حساس ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ طاقت کا توازن بگڑنے سے پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہوسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب ایران جوہری توانائی کے معاملے پر پیچھے ہٹنے کا عندیہ دے چکا تھا تو اس کے باوجود حملہ بلاجواز قرار دیا جائے گا۔ ایسے اقدامات سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں اور کشیدگی کو مزید ہوا دیتے ہیں۔
بیرسٹر گوہر نے ایران کے سپریم لیڈر کو نشانہ بنانے کی اطلاعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ملک کی اعلیٰ قیادت کو براہ راست ہدف بنانا بین الاقوامی اصولوں کے منافی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تنازعات کو بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے حل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھنا پورے خطے کے لیے نقصان دہ ہوگا۔ اگر حالات مزید بگڑتے ہیں تو اس کے اثرات صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ہم تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔
انہوں نے سیاسی قیادت اور عوام پر زور دیا کہ موجودہ صورتحال کا مقابلہ متحد ہو کر کرنا ہوگا، کیونکہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات معیشت، سلامتی اور خارجہ پالیسی پر براہ راست مرتب ہوسکتے ہیں۔
مزید پڑھیں :سونا ،چاندی اپ ڈیٹ،جا نئے فی تولہ کتنا سستا ہو گیا















