اسلام آباد(نمائندہ خصوصی) وزیراعظم شہباز شریفمتحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان کی دعوت پر کل بروز جمعرات یو اے ای کا دورہ کریں گے۔ اپنے دورے کے موقع پر خلیجی دوست ملک سے 2 ارب ڈالر کے قرضے میں توسیع (رول اوور) کی درخواست کریں گے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق یہ تجویز ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے لیکن پی ٹی سی ایل کی گزشتہ نجکاری کے 800 ملین ڈالر کے ’’اتصالات‘‘ پر واجب الادا بقایا جات پر طویل تنازع کی وجہ سے پی ٹی سی ایل سمیت مختلف پبلک لسٹڈ سرکاری اداروں کے حصص کی یو اے ای کو فروخت کا معاملہ تعطل کا شکار ہوسکتا ہےاس سے بچنے کے لیے پاکستان اور متحدہ عرب امارات پی ٹی سی ایل کی جائیدادوں کی کمرشلائزیشن کی اجازت دینے کی تجویز پر بھی تبادلہ خیال کر رہے ہیں تاکہ 800 ملین ڈالر میں سے کچھ بقایاجات کا تصفیہ کیا جا سکے۔
بہرحال تقریباً تمام اہم فیصلے وزیراعظم کے جائزے کے لیے آج (بدھ) تک موخر کر دیے گئے۔ قاسم انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل (QICT) کو 2065ء تک یو اے ای کے حوالے کرنے کی ایک اور تجویز بھی زیرغور ہے، تاہم مختلف حلقوں کی جانب سے اس کی مخالفت کی جارہی ہے۔
یاد رہے کہ دو ارب ڈالر کا قرضہ سابق وزیراعظم عمران خان نے 2019ء میں لیا تھا لیکن پاکستان اسے واپس کرنے سے تاحال قاصر رہا ہے۔ اپریل 2022ء میں وزیراعظم شہباز شریف نے متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا اور مزید قرضہ مانگا تھا لیکن برادر خلیجی ملک نے پاکستان کی پتلی مالی حالت کی وجہ سے مزید قرضہ دینے کی بجائے 2 ارب ڈالر کے مساوی لسٹڈ حکومتی اداروں میں حصص خریدنے کی پیشکش کی تھی۔
تاہم اس کے بعد سے حکومت پاکستان ان اداروں کے حصص کی فروخت کے طریقہ کار کو حتمی شکل نہیں دے سکی جو وہ آخرکار یو اے ای کو سرمایہ کاری کے لیے پیش کر سکتی ہے۔دوسری جانب اسٹاک مارکیٹ میں لسٹڈ سرکاری کمپنیوں کے 10 سے 12 فیصد حصص متحدہ عرب امارات کو دینے کی تجویز پر بھی تیزی سے کام جاری ہے۔















