اہم خبریں

پنجاب اسمبلی اجلاس،اپوزیشن مایوس،شدید احتجاج،ایوان مچھلی منڈی، ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں،پرویز الہیٰ نے اعتماد کا ووٹ نہ لیا

لاہور(نیوز ڈیسک)پنجاب اسمبلی اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ کا اعتماد کا ووٹ نہ لینے پر شورشرابا ہوا اور اپوزیشن اراکین نے اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ کر لیا۔وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے اعتماد کا ووٹ نہ لیے جانے پر اپوزیشن کے شور شرابہ کے دوران وقفہ سوالات کا آغاز ہوا جس میں وفاقی وزیر رانا ثنا اللہ اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی عطا اللہ تارڑ بھی اپوزیشن گیلری میں موجود تھے۔حکومتی اراکین کی جانب سے رانا ثنا اللہ اور عطا اللہ تارڑ کے خلاف نعرے بازی ہوئی اور اپوزیشن اراکین نے اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ کر لیا۔ اپوزیشن نے کارروائی کے کاغذات کے جہاز بناکر حکومتی ارکان کی طرف پھینکتے رہے فیاض الحسن چوہان پر بھی جہاز بناکر اڑایا تو وہ خاموش ہو گئے۔بعدازاں رانا مشہود احمد خان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں جو کئی برس سے عمرانی کھیل رہا تھا، عمران خان نے معیشت کی تباہی ، نوجوان نسل کو بدتمیز کرنے اور کرپشن کا سونامی لے کر آیا۔انہوں نے کہا کہ قندیل بلوچ کا قتل کیا گیا، مومنہ وحید نے بھی کہہ دیا جنسی درندہ پاکستان پر مسلط کیا گیا، عمران خان اقتدار کا اتنا بھوکا جب ہارتا تو کہتا دوبارہ الیکشن کرواؤ، سی پیک عمران خان دھرنے کی وجہ سے لیٹ ہوا۔رانا مشہود احمد خان نے کہا کہ جب پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کسی وزیر اعظم کو آئینی و طریقے سے گھر بھیجا گیا تو کہا نیا الیکشن کراؤ، پہلے سائفر اور ایبسلوٹلی ناٹ کا ڈرامہ کیاگیا، پرویز الہی سے آئینی وقانونی طریقے سے اعتماد کا ووٹ مانگا تو عدالت میں چلے گئے۔
انہوں نے کہا کہ پرویز الہی عدالتی وزیر اعلی ہے اعتماد کا ووٹ نہ لینے پر وہ وزیر اعلی نہیں رہے، پولٹری آٹے و چینی گھی کا بحران پیدا کرکے جیبیں بھر رہے ہیں ، پنجاب کے لوگ دو وقت کی روٹی کو ترس اور مونس الہی پیسے اکٹھے کرکے عیاشی کررہا ہے، پنجاب اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ نہ لینے پر اپوزیشن کا شور شرابہ، اجلاس کل تک ملتوی کر دیا گیا ،اپوزیشن اراکین نے اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ کر لیا اور ایجنڈے کے کاغذات حکومتی ارکان کی طرف پھینک دیے،پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن نے وزیراعلیٰ پرویز الہٰی کی جانب سے اعتماد کا ووٹ نہ لیے جانے شور شرابہ کیا جبکہ اسمبلی کا اجلاس کل تک کیلئے ملتوی ہوگیا۔پنجاب اسمبلی کا اجلاس 2 گھنٹے سے زائد کی تاخیر سے شروع ہوا۔ اجلاس میں پرویز الٰہی کی جانب سے اعتماد کا ووٹ نہ لیے جانے پراپوزیشن اور حکومتی ارکان نے شورشرابہ کیا۔ اپوزیشن کے شور شرابے میں حکومتی ارکان نے کئی بل منظورکرالیے۔ ایوان نے گھریلو ملازمین پنجاب بل 2021، پبلک ڈیفنڈر سروس پنجاب بل 2023، فوڈ اتھارٹی ترمیمی بل، تنازع کے تصفیے کے متبادل حل کا ترمیمی بل 2023 اور ناپسندیدہ کوآپریٹوسوسائٹی پنجاب ترمیمی اورتنسیخ بل 2023 کثرت رائےسے منظورکرلیا۔اسمبلی نے پبلک سیکٹر یونیورسٹیز ترمیمی بل 2022 بھی ایوان میں دوبارہ منظور کرلیا جبکہ یہ ترمیمی بل 2022 گورنرپنجاب نےواپس بھجوادیاتھا۔اس کے علاوہ ایوان نے پنجاب ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی ترمیمی بل 2019، سوشل سکیورٹی ترمیمی بل 2021 کی کثرت رائے سے منظوری دے دی۔اسپیکرپنجاب اسمبلی نے اٹک یونیورسٹی بل 2023 مزیدغور کیلئے اسپیشل کمیٹی کوبھجوادیا۔

متعلقہ خبریں