نئی پارٹی بنانے کی تردید، عمران خان سے اختلاف اسٹیبلشمنٹ کی وجہ سے نہیں، چوہدری سرور

اسلام آباد(نیوزڈیسک)علیم خان اور ترین گروپ کے بعد سابق گورنر پنجاب چوہدری سرور نے بھی نئی سیاسی جماعت بنانے سے متعلق بیان سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ دنیا میں سیاستدان ذاتی مفادات بعد میں اور قومی مفاد پہلےدیکھتے ہیں لیکن ہم بلیم گیم سے نہیں نکلتے، میں نے اخبارات اور ٹی وی میں دیکھا کہ میں پارٹی بنا رہا ہوں۔ پیپلز پارٹی نے پنجاب کی صدارت کی کوئی بات نہیں کی، سیاسی لوگ ملتے ہیں تو سیاسی باتیں ہوتی ہیں، پیپلز پارٹی کے ساتھ رابطے ہیں سینئر رہنما میرے دوست ہیں، پیپلز پارٹی کے رہنماؤں سے ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ عمران خان سے کسی قسم کا رابطہ نہیں ہوا، میں نے جب ن لیگ کو چھوڑا، تب پی ٹی آئی کی مقبولیت اتنی نہیں تھی، پی ٹی آئی حکومت کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی، پرویز خٹک پولیس ریفارمز نہ کر سکے، پنجاب میں بھی بہتری نہ آئی صرف دعوے کیے گئے۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کا کہنا تھا برٹش ہائی کمیشن کا مشکور ہوں کہ مشکل حالات میں پاکستان کی مدد کرتے ہیں، متاثرہ بچوں کے لیے انگلش کرکٹ بورڈ نے کٹس بھیجی ہیں، بلوچستان جاکر یہ کٹس بچوں میں تقسیم کریں گے، ہمارے پاس 200 کے قریب تنظیمیں رجسٹرڈ ہیں جو کسی بھی آفت میں کام کرسکتی ہیں۔چوہدری سرور کا کہنا ہے کہ دنیا میں سیاستدان ذاتی مفادات بعد میں اور قومی مفاد پہلےدیکھتے ہیں لیکن ہم بلیم گیم سے نہیں نکلتے، میں نے اخبارات اور ٹی وی میں دیکھا کہ میں پارٹی بنا رہا ہوں۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے پنجاب کی صدارت کی کوئی بات نہیں کی، سیاسی لوگ ملتے ہیں تو سیاسی باتیں ہوتی ہیں، پیپلز پارٹی کے ساتھ رابطے ہیں سینئر رہنما میرے دوست ہیں، پیپلز پارٹی کے رہنماؤں سے ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ایک سوال کے جواب میں چوہدری سرور کا کہنا تھا عمران خان سے کسی قسم کا رابطہ نہیں ہوا، میں نے جب ن لیگ کو چھوڑا، تب پی ٹی آئی کی مقبولیت اتنی نہیں تھی، پی ٹی آئی حکومت کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی، پرویز خٹک پولیس ریفارمز نہ کر سکے، پنجاب میں بھی بہتری نہ آئی صرف دعوے کیے گئے۔چوہدری سرور نے مزید کہا کہ عمران خان سے اختلاف اسٹیبلشمنٹ کی وجہ سے نہیں ہے، عمران خان اور ٹیم دعووں پر عمل نہ کر سکے، پی ٹی آئی نے رائٹ مین فار دا رائٹ جاب کے بیانیے پر عمل نہیں کیا۔