وسائل کی کمی کے باوجود کوئٹہ کے شہری کے ہاں ساٹھویں بچے کی پیدائش

کوئٹہ(نیوز ڈیسک)پاکستان میں آبادی کا دن بدن تیزی سے اضافہ شہر سکڑنے لگے ، اور وسائل کم ہونے لگے ، ایسے میں بلوچستان کے شہری سردار جان محمد خان کے گھر تین بیگمات سے ساٹھویں بچے کی پیدائش ہوئی ۔ غیر ملکی نشریاتی ادارے سے گفتو کرتے ہوئے سردار حاجی جان محمد خلیجی نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ ہفتے اس کے گھر ساٹھویں بچے کی پیدائش ہوئی جبکہ اس سے قبل پانچ بچے اللہ کو پیارے ہوچکے ،55 حیات ہیں ۔انھوں نے کہا کہ وہ اس پر اکتفا نہیں کریں گے اور اگر اللہ نے چاہا تو وہ مزید بچے بھی پیدا کریں گے جس کے لیے وہ چوتھی شادی کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔ اس وقت حاجی جان محمد کی تین بیگمات ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میری بیویاں بھی مزید بچے چاہتی ہیں۔

پچاس سالہ ڈاکٹر جان محمد خان کا تعلق خلجی قبیلے سے ہے اور وہ کوئٹہ شہر میں مشرقی بائی پاس کے رہائشی ہیں۔وہ میڈیکل پریکٹشنر ہیں اور اسی علاقے میں ان کا کلینک بھی ہے۔حاجی جان محمد خان نے بتایا کہ ان کی ساٹھویں اولاد بیٹا ہے اور اس کا نام خوشحال خان رکھا گیا ہے۔

ان کے مطابق ’خوشحال خان کی والدہ کو پیدائش سے قبل میں عمرہ کرایا گیا تھا۔ اس لیے میں ان کو حاجی خوشحال خان کہتا ہوں۔سردار جان محمد نے کہا کہ وہ چوتھی شادی کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے وہ چوتھی خاتون کی تلاش میں ہیں۔انھوں نے کہا کہ ’میں نے اپنے سب دوستوں کو کہا ہے کہ وہ چوتھی شادی کے لیے خاتون کی تلاش میں مدد کریں۔ عمر ہاتھ سے نکل رہی ہے اس لیے میری خواہش تو یہی ہے کہ چوتھی شادی جلدی ہو۔‘

انہوں نے کہا کہ مزید بچے پیدا کرنا نہ صرف ان کی خواہش ہے بلکہ ان کی بیگمات بھی یہی چاہتی ہیں اور بیٹوں کے مقابلے میں ان کے ہاں بیٹیوں کی تعداد زیادہ ہے۔انھوں نے کہا کہ ان کے بعض بچوں اور بچیوں کی عمریں 20 سال سے زیادہ ہیں تاہم ابھی تک ان میں سے کسی کی شادی نہیں کروائی کیونکہ وہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

حاجی جان محمد نے کہا کہ ان کا کوئی بڑا کاروبار نہیں بلکہ ان کے گھر کے تمام اخراجات کا انحصار ان کے کلینک پر ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پہلے ان کو بچوں کے اخراجات کے حوالے سے بہت زیادہ پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا تھا لیکن گذشتہ تین سال سے مہنگائی میں بہت زیادہ اضافے کی وجہ سے ان کو تھوڑی بہت مالی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کی یہ کوشش رہی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو خوش رکھیں اور ان کے لیے انھوں نے کسی سے مدد نہیں مانگی بلکہ اپنی محنت سے اخراجات پورا کرنے کی کوشش کی۔’کاروبار ٹھپ ہو گیا ہے۔ آٹے، گھی چینی سمیت تمام بنیادی اشیا کی قیمتوں میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔ گذشتہ تین سال سے جب پوری دنیا سمیت تمام پاکستانیوں کو مشکلات پیش آ رہی ہیں تو اس سے میں بھی متاثر ہو رہا ہوں۔‘انھوں نے کہا کہ وہ تمام بچوں کو پڑھا رہے ہیں جن کے تعلیم پر بھی بہت سارے اخراجات ہو رہے ہیں۔