عوامی فلاحی منصوبوں کیلئے بڑھ چڑھ کر اقدامات کئے جائیں گے، وزیراعظم کا ہزارہ الیکٹرک سپلائی کمپنی کے قیام کی تقریب سے خطاب

اسلام آباد(نیوز ڈیسک )وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ عوامی فلاحی منصوبوں کیلئے بڑھ چڑھ کر اقدامات کئے جائیں گے، سابق حکومت کی مجرمانہ خاموشی سے ملک میں توانائی بحران پیدا ہوا، عمران نیازی کو عوام سے لگائو ہوتا تو وہ انتقامی کارروائی، گالم گلوچ، دشنام طرازی کو چھوڑ کر عوام کی خدمت کے منصوبے شروع کرتا، اس نے ملک کی معیشت، معاشرے اور سماج کو تباہ کیا، اس سے بڑا منافق، محسن کش، بے دید اور ناشکرا انسان نہیں دیکھا، عمران نیازی نے سی پیک کو نقصان پہنچایا، چین سمیت دیگر دوست ممالک کو ناراض کیا، پاکستان دیوالیہ نہیں ہو گا، آئی ایم ایف کی ٹیم جلد پاکستان کا دورہ کرے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو ہزارہ الیکٹرک سپلائی کمپنی کے قیام کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر بجلی انجینئر خرم دستگیر خان، مسلم لیگ (ن) کے صوبائی صدر انجینئر امیر مقام، وفاقی وزیر مرتضیٰ جاوید عباسی، سابق رکن قومی اسمبلی کیپٹن (ر) محمد صفدر نے بھی خطاب کیا جبکہ تقریب میں سردار محمد یوسف، سردار شاہجہاں یوسف، سینیٹر پیر صابر شاہ، اورنگزیب نلوٹھہ، آفرین خان، بلدیاتی نمائندے اور مسلم لیگ (ن) کے عہدیداران بھی موجود تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہزارہ سمیت ملک بھر میں سوئی گیس کے اربوں روپے کے منصو بے فنڈز دستیاب ہونے کے باوجود خراب ہو رہے تھے ان کو مکمل کرنے کا حکم دے دیا ہے، ان کیلئے مختص فنڈز بروئے کار لائے جائیں گے، گیس کی فراوانی ہونے پر ان پائپ لائنوں سے گیس آپ کے گھروں تک پہنچے گی، آپ کے چولہے جلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف ہزارہ کے پی کے سمیت ملک کے معمار ہیں، نواز شریف نے 2013ء میں اقتدارسنبھالتے ہی 20، 20 گھنٹے لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے کا منصوبہ بنایا، سی پیک سمیت دیگر منصوبوں کے ذریعے بجلی کی 5 ہزار میگاواٹ اضافی پیداوار کے ایل این جی منصوبے شروع کئے گئے، 11 ہزار میگاواٹ بجلی کے منصوبے ان کے دور میں مکمل ہوئے، بجلی نہ ہونے کی بناء پر ملک میں جو اندھیرے تھے وہ ختم ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی ہے کہ سابق حکومت نے دیگر معاملات کی طرح بجلی اور گیس کے منصوبوں میں بدترین غفلت کا مظاہرہ کیا، جب کورونا آیا تھا اس وقت مارکیٹ میں گیس 2 اور 3 ڈالر فی یونٹ میں مل رہی تھی اس شخص نے کچھ نہ کیا، اسے پاکستانی عوام سے کوئی لگائو اور سروکار نہیں تھا، اگر انہیں عوام سے لگائو ہوتا تو وہ انتقامی کارروائی، گالم گلوچ، دشنام طرازی کو چھوڑ کر عوام کی خدمت کے منصوبے شروع کرتا، عمران خان عوام کو ہر طرح کا معاملہ بتا رہا ہے، ایک چیز بھی اس کی جھولی میں نہیں ہے کہ وہ 22 کروڑ عوام کو یہ بتانے سے قاصر ہے کہ اس نے ملک کے کسی کونے میں ترقی کیلئے ایک اینٹ نہیں لگائی، اس نے ملک کی معیشت، معاشرے اور سماج کو تباہ کیا، اس سے بڑا منافق، محسن کش، بے دید اور ناشکرا انسان نہیں دیکھا، عمران نیازی کے کرتوت اور بیانات کے ایک ایک لفظ سے یہ بات پکار پکار کر ثابت ہو رہی ہے کہ اس سے زیادہ بڑا کوئی محسن کش پاکستان میں پیدا نہیں ہوا۔ وزیراعظم نے کہا کہ گذشتہ چار سال کے دوران پاک فوج نے پاکستان کی ترقی کیلئے عمران خان سے بھرپور تعاون کیا لیکن وہ مکمل سپورٹ کے بعد ناکام وزیراعظم ثابت ہوئے، اب وہ مسند اقتدار پر بٹھانے والوں پر الزام تراشی کر رہے ہیں، کسی کے چھوٹے سے احسان پر بھی نظریں نہیں اٹھتیں، یہ معاشرتی اقدار ہے کہ ایک دوسرے سے عزت سے پیش آئیں، احسان مندی کے واقعات سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوست ممالک نے ہمیشہ ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا، 75 سال میں اربوں ڈالر بغیر کسی شرط کے پاکستان کو دیئے، چین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر سمیت دیگر ممالک نے ہمیشہ پاکستان کی مدد کی۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ عمران نیازی نے دوست ممالک سے تعلقات خراب کئے، ان کو ناراض کیا جس کے نتیجہ میں پاکستان آج تباہی کا شکار ہے، مجھے اندازہ نہیں تھا کہ عمران خان نے ہر چیز کی تباہی کر دی ہے، چین کے وزیراعظم سے 45 منٹ بات کی، سعودی عرب کی طرح چین پاکستان کا دوست ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاملات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں، عمران خان نے سی پیک کا جنازہ نکالا، چینی کمپنیوں پر کرپشن کے بے بنیاد الزامات لگائے، ایک ملک پاکستان میں 30 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے، اس کا شکریہ ادا کرنے کی بجائے اس پر الزامات لگائے، عمران نیازی نے اپنے چیلے چانٹوں سے سب کچھ کرایا، چین ناراض ہو گیا، چین نے میرے دورے کے دوران گرمجوشی سے استقبال کیا، یہ چین کی پاکستان کے عوام سے محبت ہے، تمام دوست ممالک سے تعلقات ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، چین کے وزیراعظم نے یقین دلایا کہ پاک۔چین دوستی ہمالیہ سے بلند ہے اور پاکستان کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر چین کے دورے پر گئیں، چین کے وزیراعظم نے بتایا کہ انہوں نے اس سے کہا کہ پاکستان ہمارا بھائی ہے، ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں، آپ بھی ان کا ساتھ دیں، آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر نے رات گئے ٹیلیفون کیا، 9 جنوری کو پوری دنیا میں سیلاب متاثرین کا مقدمہ لڑیں گے، آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کو بتایا کہ سابق حکومت نے جو معاہدہ پاش پاش کیا اتحادی حکومت نے اس کو پورا کیا، انہیں یقین دلایا کہ ہم تمام شرائط پوری کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، گیس ناپید ہے تاہم پاکستان میں گذشتہ سالوں کی نسبت لوڈ شیڈنگ میں کمی آئی ہے، گھریلو صارفین کیلئے گیس کی فراہمی یقینی بنا رہے ہیں، دنیا میں مہنگائی اور کساد بازاری ہے، یوکرین۔روس جنگ کے باعث عالمی معیشت متاثر ہوئی ہے، گذشتہ حکومت کے دور میں گندم کی پیداوار کم ہوئی، اب اربوں ڈالر سے گندم خریدنی پڑ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کو سیلاب سے پیدا ہونے والی صورتحال سے آگاہ کیا، انہیں بتایا کہ غریب عوام پر مزید بوجھ نہیں ڈال سکتے، امیروں پر ٹیکس لگایا ہے، آئی ایم ایف کی ٹیم 9ویں جائزہ کیلئے جلد پاکستان آئے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے مخالفین جو پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ پاکستان دیوالیہ ہو جائے گا ایسی کوئی صورتحال نہیں، سابق حکومت کی تمام تر وعدہ خلافیوں اور سوتیلی ماں کے سلوک کے باوجود دوست ممالک پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں، مخلوط حکومت ملک کو عظیم ترین بنانے کیلئے ہر ممکن اقدامات کرے گی، نواز شریف کے دور حکومت میں پنجاب میں ادویات مفت تھیں، اس وقت مشکل صورتحال ہے، بازاروں اور دکانوں کیلئے بجلی کی بندش کے اوقات کا تعین کیا ہے، سالانہ 27 ارب ڈالر گیس، بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر خرچ ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تاجر معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، ان سے اپیل ہے کہ مشکل وقت میں حکومت کا ساتھ دیں تاکہ بجلی کی بچت ہو، اس سے تیل کی درآمد میں کمی آئے گی اور ڈالر کی بچت ہو گی جو ملک کی ترقی پر خرچ کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب میں خادم اعلیٰ تھا تو اس وقت شادیوں کی تقریبات رات گئے تک ہوتی تھیں تاہم مربوط اقدامات کے ذریعے ہوٹل 10 بجے بند ہونے لگے اور شادیاں بھی 10 بجے ختم ہو جاتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ جامع اقدامات کے ذریعے ملک کے مسائل حل کئے جائیں گے، ہم سب مل کر ملک کو عظیم بنائیں گے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ جاوید عباسی نے کمپنی کے قیام پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی مسلم لیگ (ن) کی حکومت آئی اس نے ترقیاتی منصوبوں کا جال بچھایا، ہزارہ الیکٹرک سپلائی کمپنی کے قیام کی منظوری 2018ء میں دی گئی تھی تاہم اس کو گذشتہ حکومت نے روکے رکھا، اب اس کو ممکن بنایا، اس پر ہزارہ ڈویژن کے عوام منتخب نمائندوں کی جانب سے آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں، ہزارہ ڈویژن میں اربوں روپے کے منصوبے مکمل کریں گے، مسلم لیگ کوہستان، ہری پور اور ایبٹ آباد کی جانب سے آپ کو دعوت ہے وہاں کے عوام آپ کے استقبال اور خراج تحسین پیش کرنے کیلئے بے قرار ہیں، امید ہے کہ جلد وقت دیں گے۔ مسلم لیگ (ن) کے صوبائی صدر انجینئر امیر مقام نے کہا کہ ہزارہ کے عوام کو مبارکباد دیتے ہیں جن کا ہزارہ الیکٹرک سپلائی کمپنی کا قیام عمل میں لانے کا دیرینہ مطالبہ پورا ہوا، اس کمپنی کے قیام میں بنیادی کردار مرتضیٰ جاوید عباسی کا ہے، ہزارہ الیکٹرک سپلائی کمپنی کے قیام پر وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہیں، پنجاب کے بعد کے پی مسلم لیگ (ن) کا دوسرا گھر ہے، خیبرپختونخوا میں حالیہ جلسوں میں عوام نے انتہائی محبت کا ثبوت دیا ہے، جن وزارتوں پر مسلم لیگ (ن) کے اراکین فائز ہیں وہاں پر ورکروں کے کام ہونے چاہئیں، ڈسکوز میں ہزاروں آسامیاں خالی ہیں، یہاں پر تعیناتیاں کی جائیں، خیبرپختونخوا میں 10 سال سے برسر اقتدار طبقہ اپنے لوگوں کو بھرتی کرتا رہا، ان تعیناتیوں پر عائد پابندی ختم کی جائے اور گریڈ ایک سے 9 تک بھرتیاں کی جائیں۔ سابق رکن قومی اسمبلی کیپٹن (ر) محمد صفدر نے کہا کہ ہم یہ چاہتے تھے کہ ہزارہ کے وسائل ہزارہ میں استعمال ہوں، ہزارہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کا گڑھ ہے، مسلم لیگ (ن) نے ہزارہ موٹروے دی، اس کے علاوہ بے شمار شاہراہیں دیں۔ رکن کے پی اسمبلی سردار محمد یوسف نے کمپنی کے قیام پر ہزارہ کے عوام کی جانب سے وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن ہزارہ کی تاریخ میں سنہری دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا، یہ ہزارہ کے عوام کا دیرینہ مطالبہ تھا جسے شہباز شریف نے عملی جامہ پہنایا۔ سردار یوسف نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے 9 ماہ میں جتنے کام کئے اتنے چار سال میں گذشتہ حکومت نہیں کر سکی، سابق حکومت نے معیشت کا بیڑا غرق کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہزارہ الیکٹرک سپلائی کمپنی سے یہاں کے عوام کی محرومیاں دور ہوں گی، ہزارہ کے عوام ہمیشہ کی طرح آئندہ بھی مسلم لیگ (ن) کے ساتھ رہیں گے۔ سینیٹر پیر صابر شاہ نے کہا کہ ہزارہ مسلم لیگ (ن) کی پہچان ہے، نامساعد حالات کے باوجود ملکی مسائل کو حل کرنے کی ذمہ داری قبول کی، مشکل حالات کے باوجود وزیراعظم پرخلوص نیت سے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے اپنے دور حکومت میں ہر شعبہ میں کانٹے بوئے، جن کو چننا آسان کام نہیں۔