Your theme is not active, some feature may not work. Buy a valid license from stylothemes.com

حق خود ارادیت بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے جسے بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے تسلیم کیا جاتا ہے وزیراعظم محمد شہباز شریف کا پیغام

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پانچ جنوری کا دن ہر سال جموں و کشمیر کے عوام کے یوم حق خود ارادیت کے طور پر منایا جاتا ہے۔ آج کے دن 1949 میں، اقوام متحدہ کے کمیشن برائے ہندوستان اور پاکستان (UNCIP) نے ایک قرارداد منظور کی جو جموں و کشمیر میں آزادانہ اور منصفانہ استصواب رائے کی ضمانت دیتی ہے، تاکہ کشمیری عوام اپنے حق خودارادیت کا استعمال کر سکیں۔ حق خود ارادیت بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے جسے بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے تسلیم کیا جاتا ہے۔ ہر سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی ایک قرارداد منظور کرتی ہے جو لوگوں کو اپنی تقدیر خود طے کرنے کے قانونی حق کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ ایک افسوسناک امر ہے کہ بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر (IIOJK) کے مظلوم عوام پچھلے چوہتر (74) سالوں میں اس حق کا استعمال نہیں کر سکے۔ بھارتی حکومت نے نہ صرف کشمیریوں کے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت سے انکار کیا ہے بلکہ اس نے بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر (IIOJK) میں خوف کا ماحول پیدا کر دیا ہے5 اگست 2019 کے بھارت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات سے کشمیریوں پر جبر کے ایک نئے باب کا اضافہ ہوا ہے۔ آج کا دن منانے کا مقصد مظلوم کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کے حوالے سے عالمی برادری کو اس کی ذمہ داری یاد دلانا ہے۔ اقوام متحدہ کو ان وعدوں پر عمل درآمد کرنا چاہیے جو اس نے چوہتر (74) سال قبل کیے تھے تاکہ کشمیری عوام اپنا جائز حق خود ارادیت حاصل کر سکیں۔ آج کے دن میں پاکستان کی حکومت کے اس عزم کو دہراتا ہوں کہ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے حق خود ارادیت کے لیے اپنی غیر متزلزل اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔