اسلام آباد (نیوزڈیسک)وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہاہے کہ بھارت میں مجھے موقع ملا کہ میں اسلام اور کشمیریوں کامقدمہ لڑوں۔ شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں شرکت بہت مشکل فیصلہ تھا، پہلی بار ہمیں پتا چلا ایس سی او بھارت میں ہو رہا ہے تو مجھے اس میں دلچسپی نہیں تھی۔ میزبان ملک کا منصوبہ تھا کہ اس پلیٹ فارم کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کریں، نام لیے بغیر ہمارے میزبان نے کچھ مسائل کا ذکر کیا تھا، ہم نے بھی پاکستان کا مؤقف سامنے رکھا۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) رکن ملکوں کو بتایا پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف بہت قربانیاں دی ہیں۔انہوں نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں شرکت بہت مشکل فیصلہ تھا، پہلی بار ہمیں پتا چلا ایس سی او بھارت میں ہو رہا ہے تو مجھے اس میں دلچسپی نہیں تھی۔انہوں نے کہاکہ ہم نے دفتر خارجہ میں اس معاملے پر مشاورت کی، اتحادی جماعتوں سے رابطے کیے اور تمام جماعتوں کی مشاورت سے شرکت کی۔بلاول نے کہا کہ ایس سی او فورم کے بانی روس اور ہمارا دیرینہ دوست چین ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کثیر الجہتی فورم ہے، پاکستان 2017 میں اس کا ممبر بنا۔انہوں نے کہا کہ اگست 2019 کے بعد ہمارے لیے جی 20 اجلاس میں شرکت نہ کرنا مشکل فیصلہ تھا لیکن یہ اچھا فیصلہ ثابت ہوا، اس کے ذریعے پاکستان کا موقف دنیا کے سامنے رکھا۔انہوں نے کہاکہ ایس سی او میں مسلمانوں اور کشمیریوں کے خلاف بیانیے کو منہ توڑ جواب دیا، بھارت کے بیانیے کا منہ توڑ جواب یہ تھا کہ میں وہاں انہیں بتاؤں میں شہید کا بیٹا ہوں۔انہوں نے کہا کہ ہم اصولی طور پر چاہتے ہیں کہ دہشتگردی کا حل نکالیں۔انہوں نے کہا کہ میزبان ملک کا منصوبہ تھا کہ اس پلیٹ فارم کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کریں، نام لیے بغیر ہمارے میزبان نے کچھ مسائل کا ذکر کیا تھا، ہم نے بھی پاکستان کا مؤقف سامنے رکھا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہماری دو طرفہ ملاقاتیں بھی ہوئیں۔ چین، روس کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ہماری دو طرفہ ملاقاتیں ہوئیں، یہ میٹنگز اچھی رہیں۔















