کاش بینظیر بھٹو زندہ ہوتیں تو دیکھتیں کہ باپ بیٹے نے کس طرح روٹی کپڑا اور مکان کے نام پر لوگوں کو رسوا کیا،علی زیدی

کراچی(نیوز ڈیسک )پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر وسابق وفاقی وزیر علی زیدی کا کہنا ہے کہ کاش بی بی زندہ ہوتی تو دیکھتیں کہ آصف زرداری اور انکے بیٹے بلاول بھٹو نے کس طرح روٹی کپڑا اور مکان کا نعرے سے ملک کا بیڑا غرق کیا، کاش بی بی زندہ ہوتی تو وہ دیکھتیں کہ کس طرح انکے شوہر اور بیٹے نے انکی پارٹی کو تباہ کیا۔ کاش بی بی زندہ ہوتیں تو وہ دیکھتیں کہ کس طرح انکی جماعت کوویڈ کا فنڈ کھا گئی۔ کاش بی بی زندہ ہوتی تو دیکھتیں کہ کس طرح غیر ملکی میڈیا پر لاڑکانہ کے بارے میں کیا کہا جارہا ہے، کاش بی بی زندہ ہوتی تو دیکھتیں سوا کروڑ بچے اسکول نہیں جاسکتے۔ ان خیالات کا اظہار علی زیدی نے سندھ سیکریٹریٹ کراچی سے پریس کانفرنس سے خاطب کے دوران کرتے ہوئے کیا۔ پریس کانفرنس میں ان کے ہمراہ پی ٹی آئی کراچی کے صدر بلال غفار، سابق اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی فردوس شمیم نقوی ،محمود مولوی، خرم شیر زمان، ترجمان پی تی آئی سندھ ارسلان تاج، شہزاد قریشی،اور نثار احمد شر بھی موھود تھے۔ علی زیدی کا مزید کہنا تھا کہ پچھتر فیصد اسکول بھینسوں کے باڑے اور وڈیروں کی اوطاقوں میں تبدیل ہو چکے ہیں، کاش بی بی زندہ ہوتیں تو وہ دیکھتیں کہ کس طرف یہ پندرہ سالہ حکومت میں یہ شہریوں کو کس ایمبولینس اور فائر برگیڈ کی گاڑیوں سے محروم رکھا۔ کاش بی بی زندہ ہوتی تو باپ اور بیٹے کو اسٹیبلشمنٹ کی گود میں پلتا ہوا دیکھتیں، کاش بی بی زندہ ہوتی تو دیکھتیں کہ پولیس کس طرح آصف علی زرداری کی رکھوالی کررہی ہے،کاش بی بی زندہ ہوتی تو وہ کم از کم اعظم سواتی کے خلاف ہونے والے مظالم کے حق میں آواز بلند کرتیں، کاش بی بی زندہ ہوتیں تو ام رباب کو انصاف کے لیے در بدر ٹھوکریں نہ کھانی پڑتیں۔ یہاں صحافی اس طرح قتل نہ ہوتے، ناظم جوکھیو بھی موجود ہوتا، علی زیدی کا مزید کہنا تھا کہ کاش بی بی زندہ ہوتی تو عزیر بلوچ کی بدمعاشی نہ ہوتی وہ کسی کیس میں بھی بری نہ ہوتا، بی بی زندہ ہوتیں تو اٹھارہ شوگر ملوں کا حساب کرتیں، کاش بی بی زندہ ہوتیں تو میں نثار مورائی، منظور قاقا، قادر پٹیل کے بارے میں ضرور سوال کرتا، کاش بی بی زندہ ہوتیں تو ارشد شریف کو انصاف دلانے کے لیے آواز بلند کرتیں۔ بی بی زندہ ہوتیں تو اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف الیکشن سے اس طرح نہیں بھاگتا، بی بی بہادر لیڈر تھیں شوہر اور بیٹے کی طرح ڈرپوک نہیں، بی بی زندہ ہوتیں تو نیب کے کیسز معاف نہ ہوتے ان چوروں کو سزائیں ضرور ملتیں، علی زیدی کا مزید کہنا تھا کہ بینظیر بھٹو زندہ ہوتیں تو رانا ثنائ جیسا بیغیرت آدمی وزیر داخلہ نہ بنتا، کاش بی بی ہوتیں تو اپنے بیٹے کو اس طرح باہر ملک عیاشیاں نہ کرنے دیتیں،کاش بی بی زندہ ہوتیں تو آڈٹ رپورٹ پر سب سے حساب لیتیں، بی بی زندہ ہوتیں تو کم از کم پانی چوری نہ ہونے دیتیں،آج کی پریس کانفرنس بی بی کے نام کرتے ہیں، ایک سوال کے جواب میں علی زیدی کا کہنا تھا کہ بی بی زندہ ہوتیں تو دیکھتیں کہ یہ لوگ کس طرح چار مرتبہ بلدیاتی الیکشن سے بھاگ رہے ہیں، کاش بی بی ہوتیں تو جمہوری عمل کو متاثر نہ کرتیں اور فوری الیکشن کرواتیں، لانڈھی کے الیکشن میں جو ہوا وہ سب کے سامنے ہے، یہ الیکشن سے پہلے روز سے بھاگ رہے ہیں، اس پر ہم ایک طویل پریس کانفرنس کریں گے،کراچی حیدرآباد کے الیکشن سے یہ لوگ مسلسل بھاگ رہے ہیں۔ پریس کانفرنس کے آغاز میں بینظیر بھٹو صاحبہ کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی بھی کروائی گئی۔