لاہورہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں باور کرایا ہے کہ گورنر کا اقدام آئینی تھا، اعظم نذیر تارڑ

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ بات تو طے ہے وزیراعلیٰ کے پاس اکثریت نہیں ہے، عدالت نےآج کہیں نہیں کہا گورنرنے غیرآئینی کام کیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں باور کروایا ہے کہ گورنر کا اقدام آئینی تھا، اخلاقی طور پر اسمبلی وہی وزیراعلیٰ تحلیل کرے گا جس کو اکثریت حاصل ہے۔لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پرویزالہٰی اعتماد کا ووٹ نہیں لیناچاہتے کیونکہ اُن کے پاس 186 ووٹ نہیں ہیں، آج ملک کےلیے بھاری دن تھا،عدالت کاحکم پڑھے بغیرکوئی بات نہیں کرنا چاہتا۔وزیر قانون نے کہا کہ عدالت نے ان کوکچھ دن کے لیےلائف سیونگ (زندگی بچانے کا) انجکشن دیا ہے، گورنر کا اختیار ہے کہ وزیراعلیٰ کوعدم اعتماد کے ووٹ کا کہے اور وزیراعلیٰ بھی اس حکم کو ماننے کا پابند ہے، انہوں نے خود کہا ہمیں ٹائم بہت کم ملا ہے۔اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ عدالت نے پرویزالہٰی کو 11جنوری تک اسمبلی توڑنےسے روک دیا، آج توسبطین خان نےاجلاس بھی بلایا ہوا تھا، 186 بندے پرویزالہٰی کے حق میں ہاتھ کھڑے کردیتے تو سب غیرضروری ہوجانا تھا۔