حکومت کی جانب سے موٹر سائیکل سواروں fuel subsidy کے لیے اعلان کردہ 2 ہزار روپے ماہانہ پیٹرول سبسڈی ایک بار پھر عوامی بحث کا مرکز بن گئی ہے۔ ایک طرف اسے مہنگائیpetrol price کے دباؤ میں جزوی ریلیف قرار دیا جا رہا ہے تو دوسری طرف زمینی صورتحال کچھ اور ہی تصویر پیش کر رہی ہے۔
شہری علاقوں میں متعدد افراد کا کہنا ہے کہ انہیں اس سبسڈی اسکیم کے بارے میں مکمل آگاہی ہی نہیں، جبکہ کچھ ایسے بھی ہیں جن کے مطابق انہوں نے رجسٹریشن تو کی لیکن رقم تاحال موصول نہیں ہوئی۔ کئی صارفین نے شکایت کی کہ ایپ کے ذریعے عمل مکمل کرنا ان کے لیے مشکل ہے، خاص طور پر وہ افراد جو سمارٹ فون یا انٹرنیٹ استعمال نہیں کرتے۔
پٹرول پمپس پر روزانہ آنے والے شہریوں کی بڑی تعداد نے اس اسکیم پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ریلیف دینا ہی مقصد ہے تو پٹرول کی قیمتوں میں براہ راست کمی کی جائے کیونکہ موجودہ سبسڈی سے ماہانہ اخراجات کا صرف ایک چھوٹا حصہ ہی پورا ہوتا ہے۔ کچھ موٹر سائیکل سواروں نے بتایا کہ دو ہزار روپے سے بمشکل چند لیٹر پٹرول آتا ہے جبکہ روزانہ کا خرچ اس سے کہیں زیادہ ہے۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں،خوشخبری آگئی، جا نئے کیا
دوسری جانب کچھ شہری ایسے بھی ہیں جنہوں نے تصدیق کی کہ انہیں سبسڈی کی رقم موصول ہوئی ہے اور وہ اسے جزوی ریلیف کے طور پر دیکھ رہے ہیں، تاہم ان کا بھی کہنا ہے کہ مستقل حل پٹرول کی قیمتوں میں استحکام ہے۔
اس پورے معاملے میں سب سے زیادہ زیر بحث پہلو ڈیجیٹل ایپ کا استعمال ہے، جہاں کئی شہری رجسٹریشن کے عمل اور معلومات کی کمی کو بڑی رکاوٹ قرار دے رہے ہیں۔ کچھ دکانداروں کا کہنا ہے کہ وہ شہریوں کی رہنمائی کر رہے ہیں اور جن لوگوں کو طریقہ سمجھ نہیں آتا ان کی مدد بھی کی جا رہی ہے۔















