لندن (اے بی این نیوز)بین الاقوامی سطح پر پیشگوئی کی ہے کہ پیر کے روز جب دو روزہ تعطیل کے بعد عالمی آئل مارکیٹ دوبارہ کھلے گی تو کروڈ آئل کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا بھونچال آ سکتا ہے۔ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی صورتحال کے باعث عالمی منڈیوں میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔
ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی کارروائیاں تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہیں جس کے باعث آبنائے ہرمز کی سمندری گزرگاہ عملاً متاثر ہو رہی ہے۔ یہ وہ اہم راستہ ہے جہاں سے دنیا کی تیل سپلائی کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اسی صورتحال کے باعث عالمی تیل مارکیٹ شدید اتار چڑھاؤ کا شکار ہو چکی ہے۔
جنگ کے آغاز کے بعد سے برینٹ کروڈ آئل کی قیمت میں تقریباً چالیس فیصد اضافہ ہو چکا ہے اور قیمتیں دو ہزار بائیس کے بعد بلند ترین سطح تک پہنچ گئی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس نئی کشیدگی نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں بھی ہلچل پیدا کر دی ہے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران کے آئل ایکسپورٹ مرکز جزیرہ خارگ پر مزید حملوں کی دھمکی دی گئی ہے جبکہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے اتحادی ممالک پر دباؤ بھی بڑھایا جا رہا ہے۔ اسی وجہ سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پیر کے روز عالمی مارکیٹ کھلتے ہی کروڈ آئل کی قیمت میں اچانک بڑا اضافہ ہو سکتا ہے۔
خلیجی خطے میں چند اہم آئل تنصیبات بھی خطرے میں ہیں جن میں سعودی عرب کی بڑی آئل تنصیبات اور متحدہ عرب امارات کی بندرگاہیں شامل ہیں۔ تاہم متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ سے تیل کی لوڈنگ دوبارہ شروع ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
دوسری جانب عالمی توانائی ایجنسی کا کہنا ہے کہ مارچ کے دوران عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں تقریباً آٹھ ملین بیرل روزانہ کمی کا امکان ہے جبکہ مشرق وسطیٰ کے بڑے پیداواری ممالک پہلے ہی پیداوار میں تقریباً دس ملین بیرل روزانہ کمی کر چکے ہیں۔ قیمتوں میں اضافے کو قابو میں رکھنے کے لیے رکن ممالک کے اسٹریٹیجک ذخائر سے تقریباً چار سو ملین بیرل تیل جاری کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
ادھر سفارتی ذرائع کے مطابق مشرق وسطیٰ کے بعض ممالک نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات شروع کرانے کی کوشش کی تھی تاہم امریکی قیادت نے اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے جبکہ ایران نے بھی واضح کیا ہے کہ جب تک حملے بند نہیں ہوتے جنگ بندی ممکن نہیں۔















