راولپنڈی (محمد انوار عباسی)جڑواں شہر راولپنڈی میں 60 سالہ حکیم کی 24 سالہ دوشیزہ سے شادی سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گئی۔ حکیم بابر نے اپنی سابقہ ملازمہ سے نکاح کیا تو خبر دیکھتے ہی دیکھتے مختلف پلیٹ فارمز پر ٹاپ ٹرینڈ بن گئی اور صارفین کی جانب سے دلچسپ تبصروں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ 60 سالہ حکیم بابر نے اپنی 24 سالہ ملازمہ، جو پہلے سے طلاق یافتہ تھیں، سے 19 فروری کو باقاعدہ نکاح کرلیا۔ اے بی این نیوز کو انٹرویو دیتے ہو ئے حکیم بابر نے کہا کہ کہ انہوں نے کسی غیر رسمی تعلق کے بجائے نکاح کو ترجیح دی کیونکہ نکاح سنت عمل ہے اور اسی میں برکت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “رشتہ اگر بنانا ہو تو عزت اور وقار کے ساتھ بنانا چاہیے، اسی لیے میں نے باقاعدہ رشتہ بھیجا اور گھر والوں کی رضامندی سے شادی کی۔
نوبیاہتا دلہن نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ حکیم بابر ان کی پسند ہیں اور وہ انہیں دل و جان سے چاہتی ہیں۔ جب پہلی بار حکیم صاحب نے انہیں محبت کا اظہار کیا تو وہ چند لمحوں کے لیے حیران رہ گئیں، تاہم کچھ دیر غور و فکر کے بعد انہوں نے مثبت جواب دیا۔ دلہن کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس پیشکش سے متعلق اپنے اہلِ خانہ کو آگاہ کیا، جس پر گھر والوں نے باقاعدہ رشتہ لانے کی شرط رکھی۔ بعد ازاں رشتہ طے پایا اور نکاح انجام پایا۔
یہ حکیم بابر کی دوسری شادی ہے۔ اس سے قبل تقریباً 20 سال پہلے بھی انہوں نے پسند کی شادی کی تھی جس سے ان کے چار بچے ہیں۔ حکیم بابر کا کہنا ہے کہ ان کے بچوں کو بھی اس فیصلے سے آگاہ کیا گیا اور وہ اپنے فیصلے پر مطمئن ہیں۔شادی کے بعد حکیم بابر نے اعلان کیا کہ وہ سہاگ رات اور ہنی مون کے لیے جلد ہی مالدیپ روانہ ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ 41 ممالک کا دورہ کرچکے ہیں اور دنیا کے مختلف معاشروں میں دوسری یا تیسری شادی کو معمول کی بات سمجھا جاتا ہے، تاہم پاکستان میں دوسری شادی کو اکثر متنازع بنا دیا جاتا ہے۔
سوشل میڈیا پر کچھ صارفین عمر کے فرق پر تنقید کر رہے ہیں جبکہ بعض افراد نکاح کے ذریعے رشتہ قائم کرنے کے فیصلے کو سراہ رہے ہیں۔واضح رہے کہ قانونی طور پر بالغ افراد کی باہمی رضامندی سے کی گئی شادی قانوناً درست تصور کی جاتی ہے، تاہم معاشرتی سطح پر ایسے رشتے اکثر بحث و مباحثے کا باعث بن جاتے ہیں۔
مزید پڑھیں :گاڑیوں اور موٹر سائیکل پر ایم ٹیگ لگوانے کے نئے اوقات کار کا اعلان ،جا نئے تفصیل















