اسلام آباد ( اے بی این نیوز )وفاقی آئینی عدالت میں محمود خان اچکزئی کی بطور قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی تقرری کو چیلنج کر دیا گیا ہے۔ درخواست گزار اکبر ایس بابر نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ تقرری کا جاری کردہ نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے اور حتمی فیصلے تک اسے معطل کیا جائے۔
درخواست اکبر ایس بابر کی جانب سے شوکت عزیز صدیقی کے ذریعے دائر کی گئی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے قائد حزب اختلاف کی نامزدگی کے عمل کی مکمل اور آزادانہ جانچ نہیں کی، جو کہ قواعد و ضوابط کے مطابق ضروری تھا۔
درخواست گزار کا کہنا ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے رول 39 کی شق 3 کے تحت ارکان کے دستخطوں کی آزادانہ تصدیق نہیں کی۔ مزید کہا گیا ہے کہ ریکارڈ میں ایسا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں کہ آزاد ارکان نے عامر ڈوگر کو اپنی نمائندگی کا باضابطہ اختیار دیا ہو۔ درخواست میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ کیا کوئی سزا یافتہ اور نااہل شخص جیل سے بیٹھ کر پارلیمانی عمل کو کنٹرول کر سکتا ہے۔
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ ماضی میں استعفوں کی تصدیق کے لیے اسپیکر ارکان کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے رہے ہیں، تاہم اس معاملے میں طے شدہ طریقہ کار کو نظر انداز کیا گیا۔ درخواست گزار کے مطابق قائد حزب اختلاف کا عہدہ نہایت اہم آئینی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ یہ جوڈیشل کمیشن اور الیکشن کمیشن میں اہم تقرریوں کے عمل میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے، اس لیے اس عہدے پر تقرری شفاف اور آئینی تقاضوں کے مطابق ہونا لازمی ہے۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ دستخطوں کی باقاعدہ تصدیق کے بغیر جاری کیا گیا نوٹیفکیشن محض انتظامی غلطی نہیں بلکہ آئین کی خلاف ورزی ہے، لہٰذا اسے فوری طور پر معطل کر کے معاملے کا تفصیلی جائزہ لیا جائے۔
مزید پڑھیں :آئی ایم ایف کا ممکنہ دبائو،منی بجٹ کا امکان؟مارچ کا مہینہ اہم،جا نئے کیا ہو نے جا رہا ہے















