اسلام آباد(اے بی این نیوز) وفاقی وزیر غذائی تحفظ رانا تنویر حسین کی زیر صدارت قومی گندم نگرانی کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں عبوری قومی گندم پالیسی پر عملدرآمد کی پیشرفت اور ملک میں موجود گندم کے ذخائر کی تلفی کے منصوبے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران صوبوں نے دستیاب گندم کے ذخائر اور ان کی تلفی سے متعلق اپنی حکمتِ عملی کمیٹی کے سامنے پیش کی۔ وفاقی وزیر غذائی تحفظ نے اجلاس کو بتایا کہ قومی گندم پالیسی کے مؤثر نفاذ کے لیے تمام صوبوں اور علاقوں میں عملدرآمد یونٹس قائم کیے جا چکے ہیں۔
رانا تنویر حسین نے کہا کہ پالیسی کے تحت گندم کے اسٹریٹجک ذخائر نجی شعبے کے ذریعے حاصل کیے جائیں گے، جبکہ پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں گندم کی خریداری بھی نجی شعبے کے ذریعے کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پالیسی کا بنیادی مقصد کسانوں کو قیمتوں کے عدم استحکام سے محفوظ رکھنا ہے۔
وفاقی وزیر غذائی تحفظ نے واضح کیا کہ حکومت کسانوں کے لیے گندم کی قیمتوں میں استحکام کو یقینی بنا رہی ہے۔
مزید پڑھیں۔تحریک انصاف کی قیادت پر ابہام نہیں، اصل چیئرمین عمران خان ہی ہیں: سلمان اکرم راجہ















