راولپنڈی (اے بی این نیوز)راولپنڈی میں جرگے کےحکم پرلڑکی کے قتل کے مقدمے میں اہم پیشرفت سامنےآگئی، پولیس نے گرفتار نو ملزمان کےخلاف چالان مکمل کرکےڈسٹرکٹ پروسیکیوشن برانچ میں جمع کرا دیا،تمام ملزمان کو اُن کے کردار کے حساب سے قصور وار قرار دے دیا گیا۔
پولیس ذرائع کےمطابق اے ڈی پی پی کی جانب سے سکروٹنی کے بعد چالان عدالت بھجوایا جائے گا جسے علاقہ مجسٹریٹ منظور کرنے کے بعد متعلقہ ٹرائل کورٹ کو ارسال کرے گا۔جسکے بعد مقدمہ کے ٹرائل کا باقاعدہ آغاز ہو گا۔چالان میں پولیس نے تمام گرفتار ملزمان کو ان کے کردار کے مطابق قصوروار قرار دیا ہے۔
گرفتار ملزمان میں جرگہ سربراہ عصمت اللہ، مقتولہ لڑکی کا والد عرب گل، بھائی ظفر اللہ، چچا مانی گل، سسر صالح محمد اور شوہر ضیاء الرحمٰن،گورکن راشد محمود، رکشہ ڈرائیور خیال محمد اور قبرستان کمیٹی کے رکن سیف الرحمٰن شامل ہیں۔
ملزمان کےخلاف تھانہ پیرودھائی میں پولیس کی مدعیت میں مقدمہ درج ہے،ملزمان پر الزام ہے کہ انھوں نےکشمیرجاکر پسند کی شادی کرنے والی لڑکی کو واپس لاکربرادری کے جرگہ میں اسکے قتل کا فیصلہ کیا اور جرگہ سربراہ کے حکم پر سسر،چچا اور والد نے لڑکی کو منہ پر تکیہ رکھ کر اورگلا دبا کرقتل کر دیا ۔
جسکے بعد لڑکی کی لاش چھٹی قبرستان پیرودھائی میں دفن کرکے قبرکا نشان مٹا دیا گیا،لڑکی کو رکشہ میں ڈال کر قبرستان لے جانےکی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی پولیس نے کیمروں سے حاصل کرلی تھی۔
مزید پڑھیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا پنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ