اہم خبریں

بدقسمتی کے ساتھ سپیکر قومی اسمبلی اور حکومت کٹھ پتلیاں بن چکی ہیں، عمر ایوب

اسلام آباد ( اے بی این نیوز     )اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہا ہے کہ آج بھی ہم نے پوری کوشش کی کہ سپیکر ہمیں فورم دیں۔ بدقسمتی کے ساتھ سپیکر قومی اسمبلی اور حکومت کٹھ پتلیاں بن چکی ہیں۔ میاں غوث کوپروڈکشن آرڈرز کے باوجود اسمبلی میں پیش نہ کیا گیا۔
آج اسلام آباد پولیس نے ہمارے وکلاکو زدوکوب کیا۔ پنجاب پولیس کا آئی جی ڈاکٹر عثمان انور ایک ٹاوٹ ہے۔ پولیس کی جانب سے احمد چٹھہ کے گھر پر توڑ پھوڑ کی گئی۔ ان کی ایک کارکن کو پولیس تشدد کی وجہ سے ہارٹ اٹیک ہوا اور وہ چل بسیں۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو، انہوں نے کہا کہ
ایم این اے انیقہ بھٹی کے بھائی کو بھی گرفتار کیا گیا۔ پیکا ایکٹ ابھی تک آپریشنل نہیں ہوا لیکن جمشید دستی پر یہ ایکٹ لگ چکا ہے۔ اس وقت ملک میں سیمی مارشل لاکی صورتحال بن چکی ہے۔
پنجاب پولیس کچے کے ڈاکوؤں کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہی۔ ڈاکٹر عثمان انور کی سربراہی میں پنجاب پولیس دہشت گرد بن چکی ہے۔ 8 فروری کے پرامن جلسے کیلئے آنے والوں کو اسلام آباد پولیس نے گرفتار کیا۔ آج بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی جعلی کیسز کی وجہ سے جیل میں ہیں۔
شاہ محمود قریشی، یاسمین راشد اور اعجاز چوہدری کو پروڈکشن آرڈر کے باوجود پیش نہ کیا گیا۔ بلوچستان میں اس وقت جو حالات ہیں وہ انتہائی تشویشناک ہیں۔ جبری گمشدگیوں کی وجہ سے بلوچستان کے حالات اس نہج تک پہنچے۔ 9 مئی اور 26 نومبر پر جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔

مزید پڑھیں :جوڈیشل کمیشن اجلاس، جسٹس منصور شاہ، جسٹس منیب اختر، بیرسٹر علی ظفر اور بیرسٹر گوہر اُٹھ کر چلے گئے

متعلقہ خبریں