لاہور ( اے بی این نیوز )مشیر وزیراعظم رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ آئینی ترامیم کیلئے اپوزیشن کو آنے کی ضرورت میرے خیال میں نہیں ہوگی۔ حکومت کے پاس نمبرز پورے ہوں گے تو ترامیم ہوجائے گی۔
علی امین گنڈاپور نے ڈی چوک آنا تھا،
علی امین نے چائنا چوک میں تقریر کرنی تھی اور کے پی ہاؤس میں چائے پینی تھی۔ جب کسی کی گرفتاری ہوتی ہے تو اس کے پیچھے کوئی معاملہ ہوتا ہے۔ علی امین گنڈاپور خیبرپختونخوا ہاؤس پہنچ کر خود غائب ہوگئے۔
پختون روایت کے ساتھ پاکستان کی روایت کو بھی ترجیح دینی چاہیے۔ پاکستان کیلئے کیوں ملکر نہیں بیٹھا جاسکتا۔ آئینی عدالت کے قیام کو کس طرح عدلیہ پر حملے کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔
آئینی عدالت میں کسی ریٹائرڈ جج کی تعیناتی نہیں ہوگی۔
سپریم کورٹ کے 3سینئر ججز میں ایک کی تعیناتی تجویز ہے۔ کسی مخصوص شخص کیلئے قانون سازی نہیں ہونی چاہیے۔ چاہتے ہیں ججز کے آڈٹ کیلئے کوئی فورم موجود ہو۔
مزید پڑھیں :جلسے اورجلوس کرناہرسیاسی جماعت کاحق ہے،تحریک انصاف سےاحتجاج کاحق نہیں چھیناجاسکتا،محمدزبیر















