اہم خبریں

عام انتخابات،کس کس نے انتخابی نتائج چیلنج کیے؟

اسلام آباد(نیوزڈیسک)عام انتخابات 2024 میں شکست کے بعد امیدواروں کی جانب سے نتیجوں کو چیلنج کرنے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

نواز شریف نے این اے 15 مانسہرہ کا انتخابی نتیجہ چیلنج کر دیا
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے این اے 15 مانسہرہ کا انتخابی نتیجہ لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا۔

نواز شریف کی کامیابی چیلنج
لاہور میں قومی اسمبلی کے حلقے این اے 130 سے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی کامیابی کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔

مریم نواز کی کامیابی چیلنج
لاہور کے حلقہ این اے 119 سے مسلم لیگ (ن) کی سینئر نائب صدر اور چیف آرگنائزر مریم نواز کی کامیابی کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔

ریحانہ ڈار نے خواجہ آصف کی کامیابی چیلنج کردی
پاکستان تحریک انصاف کی حمایت یافتہ آزاد امیدوار ریحانہ ڈار نے مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف کی کامیابی اور فارم 47 کا نتیجہ لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا۔

عطا تارڑ کی کامیابی اور فارم 47 کا نتیجہ چیلنج
پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار ظہیر عباس نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 127 سے مسلم لیگ (ن) کے رہنما عطا تارڑ کی کامیابی اور فارم 47 کا نتیجہ لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا۔

آزاد امیدواروں نے اپنے مد مقابل امیدواروں کی جیت کو چیلنج کردیا
پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں نے اپنے مد مقابل امیدواروں کی جیت کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا۔

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 126 سے آزاد امیدوار ملک توقیر کھوکھر نے سیف الموک کھوکھر کی کامیابی کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنچ کردیا۔

ملک توقیر کھوکھر کی جانب سے درخواست میں ریٹرنگ افسر، الیکشن کمیشن سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا۔

مزیدپڑھیں:سانحہ 9 مئی؛ عمران خان اورشاہ محمود قریشی کی ضمانت منظور

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ سیف الموک کھوکھر نے فارم 45 کے مطابق ہار چکے ہیں، سیف الموک کھوکھر نے مبینہ ملی بھگت سے فارم 47 میں خود کو فاتح قرار دیا، مھجے اور میرے وکلاء کو پولیس کے ڈی ایس پی نے ریٹرننگ افیسر سے افس سے باہر نکال دیا، میری عدم موجودگی میں رزلٹ جاری کیا، فارم 45 کے نتائج ہمارے پاس موجود ہیں۔

درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت فارم 45 کے مطابق نتائج جاری کرنے کا حکم دے، عدالت الیکشن کمیشن کو حتمی نتیجہ جاری کرنے سے روکنے کا حکم دے، عدالت دوبارہ گنتی کا حکم دے اور فارم 47 کا نتیجہ کلعدم قرار دے۔

ادھر پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 46 سیالکوٹ سے عمر ڈار کی اہلیہ اور آزاد امیدوار روبا عمر نے الیکشن نتائج کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا۔

روبا عمر نے درخواست میں مؤقف اپنایا کہ فارم 45 کے مطابق درخواست گزار جیت چکی تھی مگر مبینہ ملی بھگت سے فارم 47 میں انہیں ہرا دیا گیا۔

درخواست میں بتایا گیا کہ ریٹرننگ افسر نے پولنگ ایجنٹ کی عدم موجودگی میں رزلٹ مرتب کیا، فارم 45 کے نتائج ہمارے پاس موجود ہیں۔

روبا عمر نے استدعا کی کہ عدالت فارم 45 کے مطابق نتائج جاری کرنے کا حکم دے اور الیکشن کمیشن کو حتمی نتیجہ جاری کرنے سے روکے۔

عبدالعلیم خان کی کامیابی اور فارم 47 کا نتیجہ چیلنج
قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 117 سے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عبدالعلیم خان کی کامیابی اور فارم 47 کا نتیجہ لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔

آزاد امیدوار علی اعجاز کی جانب سے دائر درخواست میں ریٹرننگ افسر، الیکشن کمیشن سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا۔

درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ علیم خان فارم 45 کے مطابق ہار چکے ہیں، علیم خان نے مبینہ ملی بھگت سے فارم 47 میں خود کو فاتح قرار دیا، فارم 45 کے نتائج ہمارے پاس موجود ہیں۔

آزاد امیدوار نے درخواست میں استدعا کی کہ عدالت فارم 45 کے مطابق نتائج جاری کرنے کا حکم دے، عدالت الیکشن کمیشن کو حتمی نتیجہ جاری کرنے سے روکنے کا حکم دے، عدالت دوبارہ گنتی کا حکم دے اور فارم 47 کا نتیجہ کلعدم قرار دے۔

محمود الرشید نے مخالف امیدوار کی کامیابی چیلنج کردی
پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار محمود الرشید نے مخالف امیدوار کی کامیابی اور فارم 47 کا نتیجہ لاہورہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا۔

میاں محمود الرشید نے مخالف امیدوار کی کامیابی کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی، درخواست میں آراو، الیکشن کمیشن، خواجہ آصف سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا۔

درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ خالد کھوکھر فارم 45 کے مطابق ہار چکے ہیں، خالد کھوکر نے مبینہ ملی بھگت سے فارم 47 میں خود کو فاتح قرار دیا، ریٹرنگ افسر نے مبینہ طور پر خالد کھوکھر کو فاتح قرار دیا، فارم 45 کے نتائج ہمارے پاس موجود ہیں۔

محمود الرشید نے استدعا کی کہ عدالت فارم 45 کے مطابق نتائج جاری کرنے کا حکم دے، عدالت الیکشن کمیشن کو حتمی نتیجہ جاری کرنے سے روکنے کا حکم دے، عدالت دوبارہ گنتی کا حکم دے اور فارم 47 کا نتیجہ کلعدم قرار دے۔

شعیب شاہین نے این اے47 کا نتیجہ چیلنج کردیا
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار شعیب شاہین نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے47 اسلام آباد کا نتیجہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا۔

تحریک انصاف کے رہنما شعیب شاہین نے این اے 47 کا ریٹرننگ آفیسر (آر او) کا فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا۔

گزشتہ روز حلقہ این اے 47 آئی سی ٹی (اسلام آباد) 2 کے تمام 387 پولنگ اسٹیشنز کا غیر سرکاری غیر حتمی نتیجہ آیا تھا جس کے مطابق ن لیگ کے طارق فضل چوہدری 102502 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے۔

طارق فضل چوہدری کے مدمقابل محمد شعیب شاہین 86396 ووٹ حاصل کرکے دوسرے نمبر پر رہے تھے۔

بعدازاں اسلام آباد ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شعیب شاہین نے کہا کہ آج میں نے اور علی بخاری نے درخواست دائر کر دی ہے، رجسٹرار آفس سے ہم نے آج ہی سماعت مقرر کرنے کی استدعا کی ہے۔

شعیب شاہین نے کہا کہ ہماری چیف جسٹس سے درخواست ہے کیس کو فوری سنا جائے، پورے اسلام آباد کو پتہ ہے میرا حلقہ این اے 47 ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس فارم 47 موجود ہے، ہم بھاری اکثریت سے یہ الیکشن جیتے ہیں، ریٹرننگ آفیسرز پر پریشر ڈالا جا رہا ہے۔

شعیب شاہین کا کہنا تھا کہ کچے کے ڈاکوؤں میں بھی غیر ت ہے، آپ نے دشمن کے بچوں کو بھی پڑھانا ہے، کیا اپنے بچوں کو چوری کی تربیت دے رہے ہیں، آپ نے صدائے لا الہ لے کر چلنا تھا، ماضی میں جو جرم آپ نے کیا آج اس کا ری پلے کر رہے ہیں، ایک امید باقی ہے وہ ہے جوڈیشری۔

یاد رہے کہ شعیب شاہین این اے 47 سے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار تھے۔

واضح رہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے تینوں قومی اسمبلی کے حلقوں کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج آگئے ہیں جن کے مطابق دو حلقوں میں مسلم لیگ ( ن ) اور ایک حلقہ میں آزاد امیدوار راجہ خرم شہزاد نے میدان مار لیا ہے۔

این اے 46 اسلام آباد سے انجم عقیل خان 81 ہزار 958 حاصل کر کے کامیاب قرار پائے جبکہ ان کے حریف آزاد امیدوار عامر مسعود مغل نے 44 ہزار 317 ووٹ حاصل کئے

این اے 47 سے مسلم لیگ ن کے امیدوار طارق فضل چوہدری نے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار شعیب شاہین اور مصطفیٰ نواز کھوکھر کو شکست دی اور ایک لاکھ دو ہزار ووٹ حاصل کر کے فاتح قرار پائے۔

این اے 48 سے آزاد امیدوار راجا خرم شہزاد نواز نے پی ٹی آئی کے آزاد امیدوار سید محمد علی بخاری اور مصطفیٰ نواز کھوکھر کو شکست دی اور 69 ہزار 699 ووٹوں کے ساتھ فاتح قرار پائے ۔

خالد مقبول صدیقی کی کامیابی چیلنج
کراچی سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 248 سے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیوایم) کے امیدوار خالد مقبول کی کامیابی سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کردی گئی۔

ایم کیو ایم کنوینر خالد مقبول صدیقی کی کامیابی کو آزاد امیدوار ارسلان خالد نے چیلنج کیا ہے۔

ارسلان خالد کے وکیل بیرسٹر علی طاہر نے کہا کہ فارم 45 کے تحت ارسلان خالد بڑے مارجن سے کامیاب ہورہے تھے، آر او نے فارم مرتب کرتے وقت تمام امیدواروں کو باہر نکال دیا، آر او خالد مقبول صدیقی کو ایک لاکھ 3 ہزار 82 ووٹ سے کامیاب قرار دے دیا، آر او کی جانب سے جاری کردہ فارم 47 کالعدم قرار دیا جائے۔

جان شیر جونیجو نے بھی الیکشن نتائج کو چیلنج کردیا
سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس 98 کے امیدوار جان شیر جونیجو نے بھی الیکشن نتائج کو سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا۔

درخواست گزار جان شیرجونیجو نے مؤقف اپنایا کہ فارم 45 کے مطابق 12 ہزار 167 ووٹ حاصل کیے، ایم کیوایم کے امیدوار ارسلان پرویز نے 1772 ووٹ لیے، فارم 47 میں ایم کیو ایم کے امیدوار کو کامیاب قراردیا گیا، عدالت سے درخواست ہے فارم 47 کو کالعدم قرار دیا جائے۔

حلیم عادل شیخ نے این اے 238 کے نتائج کو چیلنج کردیا
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما حلیم عادل شیخ نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 238 کے نتائج کو سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا۔

پی ٹی آئی رہنما حلیم عادل شیخ نے بیرسٹر علی طاہر کے توسط سے درخواست دائر کی۔

بیرسٹرعلی طاہر نے کہا کہ فارم 45 کے مطابق حلیم عادل نے حلقے میں 71 ہزار سے زائد ووٹ لیے، فارم 47 کے نتائج تبدیل کرکے ایم کیوایم امیدوار کو کامیاب قرار دے دیا گیا، امیدوار صادق افتخار کو 54 ہزار ووٹوں سے کامیاب قرار دے دیا گیا، صارق افتخار کی کامیابی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے۔

واضح رہے کہ این اے 238 کراچی ایسٹ 4 کے تمام 292 پولنگ اسٹیشنز کا غیر حتمی نتیجہ سامنے آگیا ہے جس کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کے صادق افتخار 54884 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے ہیں۔

اس نشست پر آزاد امیدوار حلیم عادل شیخ 36875 رنرز اپ رہے۔

متعلقہ خبریں