اہم خبریں

ایران میں مہنگائی کے خلاف احتجاج، ہلاکتوں کی تعداد 35 تک پہنچ گئی، 1200 گرفتار

تہران (اے بی این نیوز)ایران میں مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں شدید کمی کے خلاف احتجاجی مظاہرے مسلسل دسویں روز بھی جاری ہیں۔

مختلف شہروں میں ہونے والی جھڑپوں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 35 ہو گئی ہے، جبکہ سیکڑوں افراد زخمی اور گرفتار کیے جا چکے ہیں۔

امریکی میڈیا کے مطابق تہران، شیراز اور ایران کے مغربی علاقوں میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے، جن کے دوران تقریباً 1200 افراد کو حراست میں لیا گیا۔

ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ مظاہرین کے ساتھ جھڑپوں میں 250 پولیس اہلکار اور بسیج فورس کے 45 ارکان زخمی ہوئے ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ نے ان مظاہروں پر ردعمل دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں اور تشدد کو ہوا دے رہے ہیں۔

ادھر ایرانی چیف جسٹس غلام حسین محسنی نے واضح کیا ہے کہ ملک میں بدامنی اور انتشار پھیلانے والوں کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی اور قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔

معاشی دباؤ کم کرنے کے لیے ایرانی حکومت نے ہر شہری کو ماہانہ مالی الاونس دینے کا اعلان کیا ہے۔ سرکاری ترجمان فاطمہ مہاجرانی کے مطابق ہر فرد کو چار ماہ تک ماہانہ 10 لاکھ تومان (تقریباً 7 امریکی ڈالر) کریڈٹ کی صورت میں دیے جائیں گے، جنہیں مخصوص اشیائے ضروریہ کی خریداری کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔

مزید پڑھیں۔پاکستانی طیاروں کے اتنے آرڈرز مل رہے کہ 6 ماہ بعد آئی ایم ایف کو خیرباد کہہ سکتے ہیں، خواجہ آصف

متعلقہ خبریں