اسلام آباد(نیوزڈیسک)سپریم کورٹ آف پاکستان نےملک بھر کی جیلوں میں قیدیوں کو انسانی حقوق فراہمی کا حکم دیتے ہوئے پروبیشن کے اہل تمام افراد کی رہائی یقینی بنانے کی ہدایت کردی۔ سپریم کورٹ نے قیدیوں کی پروبیشن پر رہائی کے قوانین پر فوری عملدرآمد کا حکم دے دیا۔ وزیراعظم اور وزرائے اعلی پروبیشن پر رہائی کے قوانین کا فعال ہونا یقینی بنائیں، قیدیوں کوآزادانہ نقل و حرکت کے سوا تمام آئینی حقوق حاصل ہوتے ہیں۔جسٹس اطہر من اللہ نے پانچ صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ جیلوں میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں، جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کی وجہ سے آئینی حقوق کی فراہمی ناممکن ہوچکی۔ جیلوں میں عدم سہولیات کا شکار افراد کی اکثریت غریبوں کی ہے، غریب لوگوں کو ریاست بھی سستے اور فوری انصاف کی فراہمی کیلئے کردار ادا نہیں کر رہی،سپریم کورٹ نے کہا کہ فوجداری نظام بااثر افراد کے ہاتھوں کمزوروں کے استحصال اور انصاف کی عدم فراہمی کی اجازت دیتا ہے، آئین کے تحت چلنے والے معاشرے میں جیلوں کی ایسی حالت زار ناقابل برداشت ہے، ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ہر قیدی کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرے۔















