اسلام آباد ( اے بی این نیوز )آئینی ایشوز میں الجھا کر عدالت کا امتحان لیا گیا، چیف جسٹس پاکستان کا فل کورٹ ریفر نس سے خطاب، کہا،سخت امتحان اور ماحول کا کئی مرتبہ عدالت خود شکار بنی،جو واقعات پیش آئے انہیں دہرانا نہیں چاہتا لیکن اس سے عدالتی کارکردگی متاثر ہوئی،،تمام واقعات آڈیو لیکس کیس میں اپنے فیصلے کا حصہ بنائے،تعیناتی کے ایک سال میں سپریم کورٹ نے ریکارڈ 23 ہزار مقدمات نمٹائے، کوشش تھی زیر التواء مقدمات 50 ہزار سے کم ہوں، اٹارنی جنرل نے کہا سیاسی اور ہائی پروفائل کیسز کی وجہ سے عام سائلین کے کیسز متاثر ہوتے ہیں، عام سائلین کے مقدمات کے فیصلے بلاتاخیر ہونے چاہییں















