Your theme is not active, some feature may not work. Buy a valid license from stylothemes.com

2022مہنگائی کا سال رہا ،آٹے کی قلت،10 کلوکا تھیلا 1200 کا ہوگیا،نان 25 روپے میں بکنے لگا

لاہور(نیوز ڈیسک) مہنگائی میں اضافہ ،پنجاب کے عوام کیلیے سال2022ء آٹے اور روٹی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا ، ایک برس کے دوران نجی گندم کی فی من قیمت میں 350 روپے جبکہ سرکاری سستے آٹا کے 20 کلو تھیلے کی قیمت میں315روپے کا غیر معمولی اضافہ ہوا۔1510کلو پیکنگ والے نجی آٹا (سپیشل) کی قیمت اس ایک برس کے دوران 1200 روپے فی تھیلا سے زیادہ بڑھی۔ 10روپے میں فروخت ہونے والی سادہ روٹی کی قیمت بڑھ کر 14 روپے جبکہ سادہ نان کی قیمت 15 سے بڑھ کر 25 روپے تک جا پہنچی۔محکمہ خوراک پنجاب کے پاس گندم کے ناکافی سٹاکس اور وفاقی حکومت کی جانب سے امپورٹ میں تاخیر کے سبب اوپن مارکیٹ میں نجی گندم کی قیمتوں میں 2 ہزار روپے فی من سے زیادہ کا ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔گزشتہ روز پنجاب میں نجی گندم کی قیمت4450 روپے فی من تک جا پہنچی ہے ۔ سال2022 ء کے رمضان المبارک میں پنجاب میں قائم عثمان بزدار حکومت نے عوام کو375 روپے فی دس کلو تھیلا قیمت پر آٹا فراہم کیا تھا لیکن پھر یہ قیمت دوبارہ1295 روپے کردی گئی۔جب عثمان بزدار کی تبدیلی کے بعد حمزہ شہباز کی حکومت آئی تو انہوں نے سستا آٹا فراہمی کیلئے 200 ارب روپے کی خطیر سبسڈی کاا علان کرتے ہوئے بیس کلو آٹا تھیلا کی قیمت980 روپے مقرر کردی تھی۔ جنوری2022ء میں سادہ روٹی کی قیمت 10روپے جبکہ نان کی قیمت15 روپے مقرر تھی۔عثمان بزدار حکومت نے اس قیمت کو بڑھا کر12 روپے اور نان قیمت کو18 روپے کیا لیکن جب حمزہ شہباز حکومت آئی تو اس نے سادہ روٹی کی قیمت واپس10 روپے کردی۔چوہدری پرویز الہی حکومت نے کچھ عرصہ10 روپے قیمت کو برقرار رکھا لیکن پھر اسے بڑھا کر پہلے12روپے اور پھر14 روپے کر دیا گیا۔