Your theme is not active, some feature may not work. Buy a valid license from stylothemes.com

ٹی ٹی اے کی سکیورٹی فورسز پر حملوں کی منصوبہ بندی کی ویڈیو منظر عام پر آگئی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک )تحریک طالبان افغانستان (ٹی ٹی اے) کی دہشتگردوں کے ساتھ مل کر پاک افغان سرحد پر سکیورٹی فورسز پر حملوں کی منصوبہ بندی کی ویڈیو منظر عام پر آگئی۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ افغانستان کے علاقے ڈانگر الگد میں موجود تحریک طالبان افغانستان (ٹی ٹی
مزید پڑھیں:وزیراعظم شہباز شریف نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کی سربراہی کا فیصلہ واپس لے لیا

اے) کا سرغنہ یحییٰ حافظ گل بہادر گروپ کے دہشتگردوں کو ہدایات دے رہا ہے کہ آپ نے پاکستانی پوسٹوں پر حملہ کرنا ہے۔ویڈیو میں ٹی ٹی اے کا کمانڈر دہشتگردوں کو بتا رہا ہے کہ ہم پاکستان سے بدلہ لینے کے لیے تیار ہیں، ٹی ٹی اے کا کمانڈر جنگجوؤں کو بتا رہا ہے کہ منصوبے کے

مطابق 6راکٹ چلانے والے ہونگے اور 6 انکے معاونین ، اسی طرح 2 لیزر والے ہوں گے اور 2 ان کے ساتھ معاونین جبکہ ایک بندہ سنائپر بھی ہو گا، یہ سب مجاہدین امیر المومنین شیخ عباداللہ کے احکامات پر تیار ہیں۔ویڈیو میں خودکش بمبار کو بھی دیکھا جا سکتا ہے، دہشت گرد پاکستان کے

خلاف لڑنے پر رضامندی کا اظہار کر رہے ہیں، ویڈیو میں پاکستان میں داخلے کے لیے تیار تشکیل کو ضابطہ سمجھانے اور زخمیوں کو پیچھے نہ چھوڑنے

کی ہدایات بھی دی جا رہی ہیں۔ویڈیو اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ ٹی ٹی اے پاک افغان سرحد سے سکیورٹی فورسز پر حملوں کی منصوبہ بندی

کرنے اور دہشتگردوں کو پوری مدد فراہم کرنے میں مصروف ہے۔یاد رہے کہ پاکستان مسلسل افغان عبوری حکومت سے مطالبہ کرتا آ رہا ہے کہ کابل حکومت دہشتگردوں کو اپنی سر زمین استعمال نہ کرنے دیں، دوسری جانب دہشت گردوں کی افغانستان سے پاکستان میں دراندازی پر افغان

عبوری حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔یہ دہشتگردپاکستان کی سلامتی کے لئے سنگین خطرہ ہیں جو افغان سرزمین کا مسلسل استعمال کر ر ہے ہیں، پاکستان نے افغانستان کے اندر ٹی ٹی پی سمیت دیگر دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی پر افغان عبوری حکومت کو بارہا اپنے سنگین تحفظات سے

آگاہ کیا مگر کوئی خاطر خواہ پیشرفت نہ ہو سکی ۔واضح رہے پاکستان نے افغان عبوری حکومت کو افغانستان سے دہشت گردی کے واضح ثبوت بھی فراہم کیے جو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کا بے دریغ استعمال عالمی معاہدوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔