دنیا کی تاریخ میں کچھ خطے ایسے ہیں جنہوں نے ہمیشہ عالمی سیاست، تہذیب اور طاقت کے توازن میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ ان ہی میں ایک عظیم خطہ قدیم فارس ہے، جو آج کے ایران کی صورت میں دنیا کے نقشے پر موجود ہے۔ فارس کی تاریخ صرف ایک ملک کی کہانی نہیں بلکہ طاقت، عروج، زوال اور دوبارہ ابھرنے کی ایک مسلسل داستان ہے۔
جب ہم ماضی کے فارس کو دیکھتے ہیں تو ہمیں ایک ایسی سپر پاور نظر آتی ہے جو اپنے وقت کی دو بڑی طاقتوں میں سے ایک تھی۔ دوسری طرف رومی سلطنت تھی، جس کے حکمران کو قیصر کہا جاتا تھا۔ اسی دور میں نبی آخر الزمان حضرت محمد ﷺ کی بعثت ہوئی۔ اسلامی روایات کے مطابق آپ ﷺ کی ولادت کے وقت کئی غیر معمولی واقعات پیش آئے، جن میں فارس کے بادشاہ کے محل کے کنگرے گرنا بھی شامل ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی علامت سمجھا گیا کہ ایک عظیم سلطنت زوال کی طرف بڑھ رہی ہے۔
فارس اس وقت نہ صرف سیاسی بلکہ عسکری اعتبار سے بھی ایک مضبوط قوت تھا۔ اس کی فوجیں منظم، تربیت یافتہ اور جدید ہتھیاروں سے لیس تھیں۔ یہاں تک کہ بعض روایات میں “ہاتھیوں کی فوج” کا بھی ذکر ملتا ہے، جو دشمن پر رعب ڈالنے کے لیے استعمال ہوتی تھی۔ اگرچہ ہاتھیوں کا استعمال زیادہ تر برصغیر اور بعض دیگر علاقوں میں معروف تھا، لیکن یہ تصور فارس کی طاقت کو بیان کرنے کے لیے بھی بیان کیا جاتا ہے۔
اسلام کے ظہور کے بعد جب عرب قبائل ایک امت کی صورت میں متحد ہوئے، تو انہوں نے دنیا کی بڑی طاقتوں کا رخ کیا۔ خلافت راشدہ کے دور میں فارس کی فتح ایک اہم مرحلہ تھا۔ اس مہم میں کئی جلیل القدر صحابہ کرامؓ نے حصہ لیا، جن میں حضرت سعد بن ابی وقاصؓ، حضرت خالد بن ولیدؓ اور دیگر عظیم مجاہدین شامل تھے۔ خاص طور پر جنگِ قادسیہ ایک فیصلہ کن معرکہ ثابت ہوئی، جس میں فارسی افواج کو شکست ہوئی۔
تاریخی روایات کے مطابق اس جنگ میں مسلمانوں نے حکمت عملی، صبر اور غیر معمولی جرات کا مظاہرہ کیا۔ ایک مشہور واقعہ یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ دشمن کے جنگی وسائل کو کمزور کرنے کے لیے تیر اندازی اور دیگر حربے استعمال کیے گئے، جس سے فارسی فوج کا توازن بگڑ گیا۔ بالآخر چند سال کے اندر اندر فارس کی عظیم سلطنت اسلامی خلافت کے زیر نگیں آ گئی۔
وقت گزرتا رہا، سلطنتیں بدلتی رہیں، لیکن ایران ہمیشہ ایک اہم علاقائی طاقت کے طور پر موجود رہا۔ آج کا ایران بھی اپنی تاریخ کی طرح ایک مضبوط اور بااثر ملک ہے، جو مشرق وسطیٰ کی سیاست میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ جدید دور میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ایک اہم عالمی مسئلہ رہی ہے۔
خاص طور پر ٹرمپ کے دورِ حکومت میں ایران کے خلاف سخت پالیسیاں اپنائی گئیں، جن میں اقتصادی پابندیاں اور فوجی دباؤ شامل تھا۔ بعض ناقدین کے مطابق یہ فیصلے غیر دانشمندانہ تھے، جنہوں نے خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دیا۔ ایران نے ان دباؤ کا مقابلہ کیا اور اپنی دفاعی پوزیشن کو مضبوط بنایا۔
ایران کی طاقت کا ایک اہم پہلو اس کے بین الاقوامی تعلقات بھی ہیں۔روس اور چین جیسے ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات نے اسے عالمی سطح پر ایک مضبوط سہارا فراہم کیا۔ ان طاقتوں کی حمایت نے ایران کو تنہا ہونے سے بچایا اور عالمی سیاست میں اس کا وزن برقرار رکھا۔
اگر ہم ایک فرضی یا ممکنہ عالمی منظرنامے کا تصور کریں، جہاں بڑی طاقتیں براہ راست ٹکرا جائیں، تو یہ ایک تباہ کن عالمی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ ایسی کسی بھی جنگ میں نہ صرف امریکہ بلکہ دنیا کے دیگر ممالک بھی شدید متاثر ہوں گے۔ تاہم، یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ جنگ کا انجام ہمیشہ غیر یقینی ہوتا ہے اور اس میں جیت اور ہار کے دعوے اکثر جذباتی یا سیاسی بیانیوں کا حصہ ہوتے ہیں۔
اسی تناظر میں اسرائیل اور مشرق وسطیٰ کی سیاست بھی اہم ہے، جہاں مختلف طاقتیں اپنے اپنے مفادات کے لیے سرگرم ہیں۔ مسلم امہ کی نظریں اکثر ان ممالک پر ہوتی ہیں جو طاقت اور خودمختاری کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔
اس پوری صورتحال میں پاکستان کا کردار بھی خاص اہمیت رکھتا ہے، جو دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی طاقت ہے۔ پاکستان نہ صرف دفاعی اعتبار سے مضبوط ہے بلکہ اس کی جغرافیائی اور سیاسی حیثیت بھی اسے ایک اہم ملک بناتی ہے۔ مسلم دنیا میں اکثر پاکستان کو ایک امید کے طور پر دیکھا جاتا ہے کہ وہ مشکل حالات میں قیادت کا کردار ادا کر سکتا ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ فارس سے لے کر آج کے ایران تک کی داستان ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ طاقت کا توازن ہمیشہ بدلتا رہتا ہے۔ کوئی بھی سلطنت ہمیشہ کے لیے غالب نہیں رہتی۔ تاریخ، ایمان، حکمت عملی اور اتحاد ہی وہ عوامل ہیں جو قوموں کو عروج دیتے ہیں۔
دنیا کو آج جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، وہ جنگ نہیں بلکہ امن، مکالمہ اور باہمی احترام ہے۔ کیونکہ اگر دنیا واقعی کسی بڑی جنگ میں الجھ گئی، تو اس کی آگ میں سب کچھ جل سکتا ہے،اور پھر جیت کسی کی بھی نہیں ہوگی۔
تحریر: عزیر احمد خان















